Books Intro Articles

When it comes to reading a book first you have to know groundings of book you are going to read. Here you will get the wide range of articles on books; you can search urdu books articles on various to.. Read more

When it comes to reading a book first you have to know groundings of book you are going to read. Here you will get the wide range of articles on books; you can search urdu books articles on various topics. Checkout huge range of articles on books.

LATEST REVIEWS

جبران سے ملیے
I study book reviews written by Dr. Ghuklam Shabbir Rana (Ghulam Ibne Sultan) with keen interest.Writer has introduced a new book .This book is very important and helpful to know the life and works of Aziz Jibran Ansari .Case study id useful for bringing positive awareness about writers and thinkers.
By: Sajjad Hussain , Silence City on Sep, 17 2018

علم الدین غازی پروفیسر:
This is a thought provoking article about a senior educationist of Kashmir ( Mirpur).I like this book review writeen by Dr G S Rana .
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Aug, 27 2018

دو کتابوں ’’رئیس احمد صمدانی کی رشحات قلم‘‘ اور’’ پر محمد سلیمان اشرف بہاری اور دو قومی نظریہ‘‘پر تبصرہ

سلام مسنون
سب سے پہلے تو خادم آپ کے گرانقدر تبصرے پر شکر گزار ہے اور ہمیشہ آپ سے تعلق اور رشتے کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتا رہا ہے ۔یہ آپ کی محبت و عنایت ہے اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔مودبانہ عرض ہے کہ مجھے آپ کے تبصرے کے کچھ نکات سے اختلاف ہے اور میں اپنے علم میں اضافے کیلئے آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہے کہ
آپ نے لکھا کہ "۔ جمیعتِ علمائے اسلام کے ان اکابرین سے اغماض برتا گیا۔ جنہوں نے 1936-37 سے قائد اعظم محمد علی جناح کی دینی تربیت و حمایت کا بیڑا اُٹھائے رکھا ہواتھا۔اور تحریکِ پاکستان میں اپنے قائد کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔''
خادم اپنی معلومات اور علم میں اضافے کیلئے جاننا چاہتا ہے کہ ان اکابرین کے نام کیا تھے جو 1936ء اور 1937 ء میں قائد اعظم کی دینی و سیاسی حمایت کا بیڑا اٹھائے ہوئے تھے اور تحریک پاکستان میں قائد کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔؟
اگر یہاں آپ کی مراد مولانا اشرف علی تھانوی صاحب سے ہے تو عرض یہ ہے کہ ان کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے وہ ان سالوں کا نہیں ہے دوسرے یہ کہ ہمیں شبیر احمد تھانوی اور منشی عبدالرحمان کے علاوہ کسی مستند تاریخی کتاب اور غیر متازعہ تاریخ نگار کی کتاب سے حوالہ درکار ہے۔ اور اگر منشی عبدالرحمان اور شبیراحمد تھانوی ہی کے بیان کو سند تسلیم کرلیا جائے جو کہ یک طرفہ ہے تب بھی یہ بات ان سالوں کی نہیں ہے۔
بلکہ ذرا مولانا مبشر بدر کے درج ذیل لنک پر موجود مضمون کو بھی دیکھ لیں
http://library.ahnafmedia.com/176-qafla-e-haq/2015/jan-feb-mar/76-tahreek-e-pakistan-or-ulmay-deoband
اور الیاس گھمن کے اس مضمون پر ایک نظر ڈال لیں
http://library.ahnafmedia.com/185-faqeeh/year2016/aug/904-pakistan-mazi-hal-mustaqbel
بلکہ ان سالوں میں تو ایم ایچ اصفہانی کی وہ گواہی زیادہ معتبر ہے جس میں انہوں نے علمائے دیوبند پر مسلم لیگ کی حمایت کیلئے پچاس ہزار روپے طلب کرنے کا لکھا اور نہ ملنے پر مخالفت کا راستہ اختیار کیا آپ ان کی کتاب '' قائد اعظم محمد علی جناح جیسا میں انہیں جانتا ہوں '' کے صفحہ 42 سے 43 تک دیکھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ متعدد ایسے مستند حوالے ہیں کہ جس میں اکابرین دیوبند قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے کھلم کھلا مخالف رہے خود علامہ شبیراحمد عثمانی کا مکالمۃ الصدریں اس بات کا گواہ ہے اور یہ اگر ان جیسے شبیراحمد عثمانی مفتی شفیع ،ظفراحمد انصاری وغیرہ نے تحریک پاکستان کی حمایت کی بھی تو یہ اس وقت کی بات جب قرار داد پاکستان منظور ہوچکی تھی اور یہ امر مسلم ہوچکا تھا کہ پاکستان ناگزیر ہے۔
دوسری بات کہ '' ساتویں باب کو ملی تحریکات کے نام سے باندھا گیا جس میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عالمی سازشوں کا ذکر تو ملتا ہے مگر تحریکِ خلافت کی شدت سے مخالفت محض گاندھی کے ہمرکاب ہونے پرکی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر ابواب میں بھی یہ نکتہ دیدنیرہا۔ یہ موضوع بار بار لا کر ایک مذہبی اور طبقاتی کشمکش کو ابھارا گیا ہے،جو بلا جواز لگتی ہے۔تحریکِ خلافت میں گاندھی کو مسلمانوں کا ہیرو نہیں مانا گیا تھا۔بلکہ مسلمانوں کی آواز کو مضبوط بنانے کی ایک وقتی کوشش تھی۔رسولِ کریم ﷺ نے مدنی زندگی میں ہی اہلِ کفر سے بعض معاملات اور معاہدے تحریکِ اسلامی کو مضبوط کرنے کی خاطر فرمائے تھے۔''
اس تاریخی حقیقت سے کسی طور انکار ممکن نہیں کہ تحریک خلافت و موالات اور ہجرت میں ہمارے اکابر گاندھی کی قیادت میں مجتمع تھے اور اسے اپنا قائد تسلیم کرتے تھے اس بات کو صرف اس وجہ سے مذہبی اور طبقاتی کشمش قرار دینا اور بلاجواز کہنا کہ ہمارے اکابرین کے کردار و عمل پر حرف آتا ہے تاریخی سچائی سے صرف نظرکرنا ہے اور اسے حضور کی مدنی زندگی سے تشبیہ دینا بھی کسی طور درست نہیں اللہ کے رسول کا وہ عمل حکم ربی کے تابع تھا اور اسلامی مملکت کے قیام کیلئے تھا اور اس میں بھی سربراہ حضور تھے کوئی کافر نہیں تھا جبکہ یہاں تو معاملہ ہی مختلف اور جدا تھا یہاں کوئی ایسی تحریک اسلامی نہیں تھی جس کو مضبوط بنانے کیلئے کسی ہندو کی قیادت میں ایسا کیا جاناعمل رسول کی پیروی شمار ہوتا ۔
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اسی تبصرے میں آپ خود ایک طرف تو یہ لکھ رہے ہیں کہ ''کتاب کا باب پنجم پوراکا پوراترکِ مولات اورترکَ گاؤ کشی کی مخالفت میں تحریر کیا گیا ہے۔جس سے ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کلی طور پر خسارے میں رہی،اور ہندو کو اس سے زبر دست فائدہ پہنچا، مسلمان ہر لحاظ سے بر بادی سے ہمکنارہوئے۔''اور دوسری طرف اس کے برخلاف رائے کا اظہار کررہے ہیں۔کون سی با ت کو درست تسلیم کیا جائے پہلی یا دوسری؟
آپ نے لکھا کہ '' مگر کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی تحریک کا سارا زور ترکِ موالات اور تحریکِ خلافت کیخلاف دکھائی دیتا ہے'' تو عرض ہے کہ سید سلیمان اشرف کی زندگی میں ان کے انتقال 1939 تک برعظیم میں تحریک خلافت ہجرت ترک موالات شدھی اور سنگھٹن تحریکات کا ہی ظہور ہوا تھا اور انہی تحریکات کو آپ نے اپنا ہدف بنایا اس کوئی ایسی نئی بات نہیں۔حقیقت یہ ہے اس دور میں تو تحریک پاکستان بھی نکھر کر سامنے نہیں آتی تھی اس کی شکل بھی قرار داد لاہور(قرار داد پاکستان) کے بعد بنی۔
آپ کے یہ مندرجہ بالا نکات کو میں مثبت شمار کروں یا منفی سمجھ نہیں آتا اور ان نکات کی روشنی میں آپ کی یہ بات سوالیہ نشان بن جاتی ہے کہ '' ہم سمجھتے ہیں کہ اس کاو ش پر محمد احمد ترازی کو علی گڑھ یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی (اعزازی )سند دی جانی چاہئے۔''
جناب ڈاکٹر صاحب اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پروفیسر سید سلیمان اشرف صاحب کا انتقال علی گڑھ میں ہوا تھا بہار میں نہیں۔اور یہ کہ پروفیسر بریلوی مکتبہ فکر کے ترجمان نہیں بلکہ برعظیم کے سواد اعظم کے ترجمان تھے۔براہ کرم انہیں بریلویت سے منسوب کرکے ان کے عظیم مشن کو داغدار نہ کریں۔
جناب ڈاکٹر صاحب یہ کچھ باتیں جو عرض کی اپنی اصلاح اور مستند حوالوں کی تلاش کیلئے ہیں ہماری تاریخ میں ایسی ہزاروں باتیں شامل ہیں جس کا حقیقت حال سے کوئی تعلق نہیں میں نے اپنی کوشش میں حتی الامکان مستند حوالوں کو استعمال کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اعتدال کا دامن تھامے رہوں اور دونوں اطراف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کروں اس کوشش میں کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہوتو اپنی اصلاح کو بہتر خیال کرتا ہوں آپ تاریخ کے استاد ہیں امید ہے توجہ فرمائیں گے ۔
By: Muhammad Ahmed Tarazi, Karachi on Jul, 31 2018

The Power of Verbal Intelligence
جی ضرور، کمنٹ کے لئے شکریہ
By: Muhammad Jabran, Lahore on Jun, 19 2018

The Power of Verbal Intelligence
Jabran Sir aap ka novel 'Jahannam k saudagar' hamariweb par bhi upload kijiye ...PLEASE
By: Naved, Akola on Jun, 18 2018

شینا لکھنے کی ورک بک
شینا کے تمام اہل قلم سے گزارش ہے کہ براہ کرم پاک-چین بزم ادب کے جلد منظرعام پر آنے والے کثیرلسانی ادبی جریدے ہم رکاب میں اپنی نگارشات شایع کرانے کے لیے فوری رابطہ کریں۔۔۔۔۔رسالے کی اعزازی کاپی فقط اراکین بزم کی خدمت میں پیش کی جائے گی
By: Sohail Ahmed Siddiqui, Karachi on Apr, 15 2018

تبصرۂ کتاب
ماشاءاللہ بہت عمدہ تبصرہ ہے
By: Dr. Nasreen Shagufta , Karachi on Feb, 15 2018

ابلاغ عامہ کے موضوع پر ڈاکٹر شبیر احمد خورشیدکی تصنیف ۔ایک جائزہ
بہت عمدہ تبصرہ - دریا کو کوزے میں بند کرنا اسے کہتے ہیں - میں آپ سے متفق ہوں کہ اگر سرورق پر پرانے قدیم اخبارات کی تصویریں بھی شامل ہوجاتیں تو ٹائئل میں چار چاند لگ جاتے۔
آپ نے تحریر کیا ہے کہ باب8 سرسید احمد اور سائنٹیفک سوسائیٹی کی خدمات، مولانا ظفر علی خان ، محمد علی جوہر، منشی محبوب عالم، حمید نظامی، عنایت اللہ، میر خلیل الرحمٰن کا صحافت میں کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں نے کتاب نہیں پڑھی ہے لیکن فخر ماتری روزنامہ “حریت “ کے ایڈیٹر کا تزکرہ ضرور ہونا چاہئے تھا -انہوں نے اردو صحافت کو ایک نیا رنگ دیا تھا -

By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 01 2018

ینڈ اسکیپ آف کشمیر:فوٹو گرافک مونو لاگ Landscapes of KASHMIR A Photographic Monologue
ASSALAM O ALAIKUM,

AAP TAMAM LOGO KO HAJ MUBARAK HO OR ALLAH PAK QABOOL FARRMAY.

ARTICLE IS VERY NICE AND INTERESTING. PLS ALSO DUA FOR ME FOR HAJ.

ALLAH HAFIZ
By: SAQLAIN AHMED, karachi on Oct, 13 2017

میکسم گورکی کی ’ماں‘ اور روسی انقلاب
Till now I didn't read this book and don't want to do so. :) But what writer is actually trying to prove in this article? Is he favouring socialism? I met many peoples (socialism fans) (in virtual world) but none of them be able to grab my attention. Why we forgot Islamic system? Now someone may argue that it is the thing of past. Or this is not possible in this advance world. But I fail to understand that why they considered those fellows who are philosopher of socialism more advance than our Nabi Pak sallala hu alehe was alum? If they said that socialism is a revolutionary campaign and you byast on this because you fail to understand philosophy of it, then I must ask from them: Have you ever read the philosophy of islam?
It is the major miss-conception of us that we consider Islam as a 'mazhab' like other religions such as Christianity . But it is actually a 'deen' not only 'mazhab'.
The tenure of Khalaft-e-rashida is an open example of it.
At the end only following words: If socialism gives more justice than Khalafat-e-rashida then we must support it. But in other case if we support this we are just a bunch of idles nothing else than that.
By: Muhammad Bilal, Faisalabad on Oct, 06 2017

MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB