جنرل راحیل نے بیرون ملک ملازمت کیلئے اجازت لی نہ ابھی آفر ہے: خواجہ آصف، سرتاج عزیز

11 Jan, 2017 نوائے وقت
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سینٹ میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے 39 رکنی مسلم عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کی پاک فوج اور وزارت دفاع سے تاحال اجازت نہیں لی نہ حکومت پاکستان اس قسم کی کسی پیشکش سے آگاہ ہے، راحیل شریف سعودی فرمانروا کی دعوت پر عمرے کے لئے گئے تھے۔ تین روز قبل پاکستان واپس آچکے ہیں، سعودی عرب جانے کا ایجنڈا اور مقصد ہرگز وہ نہیں ہے جو میڈیا میں آرہا ہے۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی ہدایت پر وزیر دفاع خواجہ آصف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے 39 رکنی عسکری اتحاد کی کمان جنرل راحیل شریف کی طرف سے سنبھالنے کی میڈیا اطلاعات پر پالیسی بیانات دئیے۔ وزیر دفاع نے سبکدوش اعلیٰ فوجی افسران کی جانب سے دوبارہ ملازمت حاصل کرنے کے قواعد سے سینٹ آف پاکستان کو آگاہ کیا اور بتایا کہ موجودہ ضابطہ کار کے تحت اندرون ملک کسی بھی فوجی افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کے سلسلے میں وزارت دفاع سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے اور اس بارے میں 1998ءمیں سرکلر بھی باقاعدہ طور پر جاری ہو چکا ہے۔ چیئرمین سینٹ کے استفسار پر وزیر دفاع نے کہا کہ ان قواعدو ضوابط میں کسی فوجی افسر کی سبکدوشی کے بعد فارن پوسٹنگ کا تذکرہ موجود نہیں۔ خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ جنرل راحیل شریف نے عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے سلسلے میں حکومت پاکستان کو کچھ آگاہ کیا ہے نہ وزارت دفاع سے کلیئرنس اور این او سی لیا گیا ہے۔ سابق آرمی چیف نے قطعی طور پر حکومت کو اپروچ نہیں کیا۔ چیئرمین سینٹ کے مزید سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ سابق آرمی چیف نے اس معاملے پر فوج سے بھی اجازت نہیں لی ہے۔ وزارت دفاع اور جی ایچ کیو مسلم عسکری اتحاد کی سابق آرمی چیف کو کسی بھی پیشکش سے آگاہ نہیں ہیں۔ چئیرمین سینٹ کی ہدایت پر وزیر دفاع نے کہا کہ متعلقہ قواعدو ضوابط میں ترمیم کی جائے گی اور اس میں کسی سبکدوش فوجی افسر کی بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے کی پیشگی اجازت کو بھی شامل کیا جائے گا اور اگر جنرل راحیل شریف کی کوئی درخواست آئی تو اسی تناظر میں اسے دیکھا جائے گا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ جب اس قسم کی باضابطہ اطلاع ہی نہیں ملی اور اس پیشکش کا امکان بھی نظر نہیں آتا تو اس کی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثرات کی بات کیسے ہو سکتی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے وزیر دفاع کو ہدایت کی کہ جب بھی جنرل راحیل شریف کی 39 رکنی عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کی درخواست آئے تو سینٹ کا اجلاس ہو رہا ہو تو اس بارے میں ایوان کو ضرور مطلع کیا جائے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف کو ابھی ایسی کوئی آفر نہیں ہے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے بیرون ملک ملازمت کےلئے این او سی کے اجراءیا کلیئرنس سے متعلق وزارت دفاع کو باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی، اگر کوئی ایسی درخواست آئی تو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: