ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروبار سے علیحدگی کے اعلان پر شدید تنقید

12 Jan, 2017 بی بی سی اردو
امریکہ کے سرکاری دفتر برائے اخلاقیات کے سربراہ والٹر شاب نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی پریس کانفرنس کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے سرکاری دفتر برائے اخلاقیات کے سربراہ والٹر شاب نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی پریس کانفرنس کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے دورِ صدارت میں کاروبار سے بالکل علیحدہ رہیں گے اور ان کا تمام کاروبار ان کے دونوں بیٹوں کے حوالے ہو گا۔

والٹر شاب نے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان سے بہت پریشان ہیں اور پچھلے 40 سال میں کسی بھی امریکی صدر نے ایسا نہیں کیا۔

'ان کے بیٹے ابھی بھی کاروبار چلا رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جانتے ہیں کہ ان کی ملکیت میں کیا کیا ہے۔'

والٹر شاب نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے کاروبار سے مکمل طور پر علیحدہ ہو جانا چاہیے کیونکہ سرکاری نوکری کے اپنے کچھ ضوابط ہوتے ہیں۔ 'میں امید کر رہا تھا کہ کاش حالات ایسے نہ ہوتے اور مجھے ایسے ریمارکس دینے کی ضرورت پڑتی۔'

والٹر شاب کے ادارے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ کاروبار میں اپنے حصوں کو بیچ کر ملنے والی رقم ایک آزاد مینیجر کے زیرِ نگرانی میں چلنے والے ٹرسٹ میں جمع کرا دیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ خوشی خوشی ڈونلڈ ٹرمپ کو کاروبار سے علیحدہ ہونے کے لیے 'بہتر مشورہ' دینے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل نے کہا تھا کہ نو منتخب صدر کو اپنی محنت سے بنائے ہوئے کاروبار کو ختم کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی پریس اس پس منظر میں کر رہے تھے جب امریکی میڈیا میں ایسی خبریں چل رہی ہیں کہ روسی خفیہ اداروں نے مسٹر ٹرمپ کو ذاتی طور پر زیر کرنے والا مواد حاصل کر لیا ہے جس میں ان کے کاروباری معاملات کے علاوہ ان کی عیاشیوں کی ویڈیو بھی شامل ہیں۔

انھوں نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسی خبریں کہ روسی خفیہ اداروں کے پاس کچھ ایسا مواد موجود ہے جو ان کے لیے شرمساری کا باعث بن سکتا ہے، بالکل 'جعلی' اور 'فرضی' ہیں اور کچھ 'ذہنی مریضوں' نے انھیں اکٹھا کیا ہے۔

نومنتخب صدر کی پریس کانفرنس کے دوران زیادہ تر سوالات روس کی مبینہ ہیکنگ کے حوالے سے تھے۔

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: