فلپائن میں مانع حمل ادویات مفت تقسیم کرنے کا حکم

12 Jan, 2017 بی بی سی اردو
فلپائن میں حکومت نے سرکاری ایجنسیوں کو 60 لاکھ ایسی خواتین کو مانع حمل ادویات اور دیگر اشیا مفت تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے جن کو یہ دوائیں آسانی سے نہیں مل پاتیں۔
فلپائن آبادی

فپائن کی حکومت آئندہ 2022 تک ملک سے تقریبا 13 فیصد تک غربت کا خاتمہ چاہتی ہے

فلپائن میں حکومت نے سرکاری ایجنسیوں کو 60 لاکھ ایسی خواتین کو مانع حمل ادویات اور اشیا مفت تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے جن کو یہ دوائیں آسانی سے نہیں مل پاتیں۔

فلپائن کے صدر رودریگو دوتیرتے کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پر غریب خواتین میں غیر ضروری یا ناپسندیدہ حمل کے کیسز کی تعداد میں ہر ممکن کمی لانا چاہتے ہیں۔

تاہم امکان ہے کہ صدر کے اس حکم کو رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملک کے سابق صدر کو اس سے متعلق ایک بل کے لیے برسوں جدوجہد کرنی پڑی تھی جس کا مقصد ملک میں مانع حمل طریقوں کو وسعت دینا تھا۔ لیکن اسقاط حمل کی مخالف تنظیموں کی جانب سے شکایت درج کرانے کے بعد سپریم کورٹ نے مانع حمل امپلانٹ پر پابندی لگا دی تھی۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق فلپائن کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی رومن كیتھولک عقیدے کی پیروکار ہے، جس کا عقیدہ ہے کہ مانع حمل ادویات کا استعمال گناہ ہے۔

حاملہ خاتون

امکان ہے کہ صدر کے اس حکم کو رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فلپائن میں معاشی امور کی منصوبہ بندی سے متعلق سیکریٹری ایرنسٹو پرینیا کا کہنا ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

حکومت آئندہ 2022 تک غربت میں 13 فیصد کمی لانا چاہتی ہے۔

ایرنسٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر میں مانع حمل کا استعمال زندگی، خواتین، بچوں اور اقتصادی ترقی سب کے لیے بہتر ہے۔

صدر دوتیرتے نے جو حکم جاری کیا ہے اس کی ترجیحات میں 2018 تک ملک کی تقریباً 20 لاکھ غریب خواتین کو مانع حمل اشیا پہنچانا ہے۔

اس سلسلے میں آگہی پھیلانے اور جنسی تعلیم سے متعلق مہم چلانے کے لیے محکمہ تعلیم کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

فلپائن کی کی کل آبادی تقریباً دس کروڑ 30 لاکھ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق فلپائن ایشیا پیسیفک کے علاقے میں واحد ملک ہے جہاں نوعمر لڑکیوں میں حمل کے کیسز میں گذشتہ دو عشروں میں اضافہ ہوا ہے۔

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: