’وزیر اعظم اور ان کے بچوں کو بری نہیں کیا گیا‘

21 Apr, 2017 بی بی سی اردو
پاکستان کے آئینی اور قانونی ماہرین کا کہناہے کہ پاناما لیکس کے مقدمے میں جو فیصلہ آیا ہے اس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کو بری نہیں کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاناما لیکس کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے

پاکستان کے آئینی اور قانونی ماہرین کا کہناہے کہ پاناما لیکس کے مقدمے میں جمعرات کو جو فیصلہ آیا ہے اس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کو بری نہیں کیا گیا ہے بلکہ الزامات اپنی جگہ موجود ہیں جن کے درست یا غلط ثابت ہونے کا فیصلہ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ کے بعد ہو گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے احاطے میں بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور ماہر قانون شاہ خاور نے بتایا کہ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فیصلے میں دو ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کیونکہ اکثریت کا فیصلہ غالب آتا ہے۔

'پاناما ون ختم، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے'

پاناما کیس: سپریم کورٹ کا نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کا حکم

اپوزیشن کا وزیرِاعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

انھوں نے کہا 'سپریم کورٹ آف پاکستان نے بجائے خود کوئی فیصلہ صادر کرنے کے یہ مناسب سمجھا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے کیونکہ اِس معاملے میں اب بھی کئی پہلو تشنہ ہیں جن پر تحقیقات اور شہادتیں ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے۔'

شاہ خاور نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایک بینچ تشکیل دے گی جو جے آئی ٹی کی تحقیقات کی نگرانی کرے گی اور جے آئی ٹی ہر 15 دن کے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کو اپنی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

ہائی کورٹ کے ایک اور سینئیر وکیل شہر یار ریاض نے ایک سوال کے جواب میں کہا 'یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاناما لیکس سے متعلق مقدمے کی باقاعدہ سماعت دراصل جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد شروع ہوگی اور قصور وار کا فیصلہ بھی بعد میں ہوگا۔'

کہ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فیصلے میں دو ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کیونکہ اکثریت کا فیصلہ غالب آتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور ماہر قانون شاہ خاور

شہر یار ریاض کا کہنا ہے کہ اِس فیصلے کے نتیجے میں جو جے آئی ٹی بنائی جائے گی اس کی قانونی حیثیت اور اس کے آزادانہ طور پر کام کر پانے یا نہ کر پانے پر سوالات ضرور کیے جا سکتے ہیں لیکن فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کا بینچ جے آئی ٹی کے کام کی نگرانی کرے گا تو اس کی شفافیت کے بارے میں شکوک و شہبات ختم بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو ان افراد کے خلاف مقدمے چلانے کے لیے مثال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جن کے نام پاناما پیپرز میں آئے تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرام چوہدری نے کہا 'پاناما لیکس کے ذریعے پاکستان میں احتساب کا جو راستہ ہموار ہو رہا تھا فی الحال اس میں کئی رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں۔‘

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: