’ضروری نہیں ہے کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں‘

21 Apr, 2017 بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق تفصیلی فیصلہ وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادوں کو بھجوا دیا ہے جبکہ دوسری طرف حکمران جماعت کے چیئرمن راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ وزیر اعظم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے آگے پیش ہوں۔

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق تفصیلی فیصلہ وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادوں کو بھجوا دیا ہے جبکہ دوسری طرف حکمران جماعت کے چیئرمن راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ وزیر اعظم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے آگے پیش ہوں۔

٭’نواز شریف اور ان کے بیٹے تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں‘

سپریم کورٹ نے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپیاں اس مقدمے میں وزیر اعظمسمیت مقدمے کے تمامفریقین کو بھجوا دی ہیں۔ یہ درخواستیں عمران خان، سراج الحق، شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے دائر کی تھیں۔

اس کے علاوہان اداروں کے سربراہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ سات روز میں مشترکہ تحقیقیاتی ٹیم میں شمولیت کے لیے اپنے افسران کے نام بھجوائیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میںمشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کے علاوہ نیب، سٹیٹ بینک، سیکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں ملٹری انیلیجنس اور آئی ایس آئی کے اہلکار شامل ہوں گے۔

راجہ ظفر الحق

راجہ ظفر الحق مسلم لیگ کے سینئیر رہنما ہیں

اس فیصلے میںعدالت عظمی نےوزیر اعظم اور ان کے دونوں صاحبزادوںکو ان کی بیرون ملک جائیداد کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیمکے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ وزیر اعظممشترکہ تحقیقیاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں ۔

پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہوزیر اعظم کے وکلا بھی اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں۔

دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کی جائیداد کے لیے مشترکہ تحقیاتی ٹیم بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا مشترکہ فیصلہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بعض سیاست دان سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنے الفاظ میں تشریح کر رہے ہیں جو درست نہیں ہے۔

اُنھوں نے حزب مخالف کی جماعتوںکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ان درججز کی تعریف کرر ہے ہیں جنہوں نے پاناما سے متعلق فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا جبکہ باقی تین ججز کے بارے میں وہ اچھی رائے نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے 60 روز کے اندر اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مشترکہ تحقیاتی ٹیم عمل میں لائی جائے گی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عمران خان کو سپریم کورٹ میں جانے سے پہلے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ ایف آئی اے کے جس افسر سے تفتیش کروانا چاہتے ہیں تو حکومت اس کے لیے تیار ہے لیکن وہ نہیں مانے اور اب سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے کے ہی افسر کے سربراہی میں ایک مشترکہ تحققیاتی ٹیم بنائی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "یہ قیامت کی نشانیاں ہیں کہ آصف علی زرداریکرپشن کے معاملے پر لوگوں کو لیکچر دے رہے ہیں"۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر کو کسی کو صادق اور امین کی ڈگری جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: