جہادی گروپ فرانس کے صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونا چاہتے ہیں: اہل کار

21 Apr, 2017 وائس آف امریکہ اردو
ایک اہل کار نے روزنامہ 'لی فگارو' کو بتایا کہ ''جہادی گروپ فرانس کی سیاسی زندگی پر اثرانداز ہونا چاہتے ہیں، جس کے لیے راہ میں حائل ہونے یا پھر رائے دہی سے وابستہ تنظیم پر اثرانداز ہونے کی خواہش رکھتے ہیں'واشنگٹن —فرانس کے حکام نے جمعرات کے روز پیرس میں ہونےوالے شوٹنگ کے واقع اور اس ہفتے کے اوائل میں مرسیلز میں پولیس کی جانب سے حملے کی ایک کوشش کو ناکام بنانے کے واقعات کو اسلام نواز قدامت پسندوں کی جانب سےفرانس کے آئندہ انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔اُنھیں اس بات کا ڈر ہے کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس میں پولنگ کے دِن کیا جانے والا حملہ شامل ہو سکتا ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ کی داخلی تھنک ٹینک، "سینٹر فور انالسز اینڈ پریوژن" کے سابق سربراہ، تھبو دی مونبرے نے فرانسیسی روزنامہ "لی فگارو" کو بتایا کہ ""جہادی گروپ فرانس کی سیاسی زندگی پر اثرانداز ہونا چاہتے ہیں، جس کے لیے راہ میں حائل ہونے یا پھر رائے دہی سے وابستہ تنظیم پر اثرانداز ہونے کی خواہش رکھتے ہیں""۔فرانسیسی حکام نے اس مسلح شخص کا نام ابو یوسف الباجکی بتایا ہے، جن کی شناخت داعش کے شدت پسند گروپ سے تعلق رکھنے والی "عمق نیوز ایجنسی" نے ظاہر کی ہے۔ وہ بیلجیم کے شہری ہیں، جنھوں نے ایلسی محل میں پارک کی ہوئی پولیس گاڑی پر گولی چلائی تھی، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہل کاروں اور ایک سیاح زخمی ہوئے تھے، جب دہشت گرد نے کپڑے کے اسٹور، "مارکس اینڈ اسپینسر" کے باہر حملہ کیا تھا۔ فیس بک فورم
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: