’جے آئی ٹی‘ کے ممبران کو ’’ہراساں نا کیا جائے‘‘: عدالت

19 Jun, 2017 وائس آف امریکہ اردو
عدالت عظمٰی کے ایک سینیئر جج جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے پیر کو سماعت کے موقع پر کہا کہ ’’اگر ’جے آئی ٹی‘ کو بلاخوف کام نہیں کرنے دیا جاتا، تو پھر عدالت مجبور ہوگی کہ اس بارے میں کوئی نا خوشگوار حکم جاری کیا جائے‘‘۔اسلام آباد —پاکستان کی عدالت عظمٰی نے سویلین انٹیلی جنس ادارے ’انٹیلیجنس بیورو‘ یعنی ’آئی بی‘ کی طرف سے پاناما لیکس معاملے کی تحقیقاتی کرنے والی ٹیم کو ہراساں کرنے کی خبروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ’جی آئی ٹی‘ کے ممبران کی راہ میں کوئی رکاوٹ نا ڈالی جائے۔عدالت عظمٰی کے ایک سینیئر جج جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے پیر کو سماعت کے موقع پر کہا کہ ’’اگر ’جے آئی ٹی‘ کو بلاخوف کام نہیں کرنے دیا جاتا، تو پھر عدالت مجبور ہوگی کہ اس بارے میں کوئی نا خوشگوار حکم جاری کیا جائے‘‘۔سپریم کورٹ کے حکم پر قائم چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اُس کے ممبران کو انٹیلی جنس بیورو ’آئی بی‘ کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ تاہم، انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔پیر کو ہونے والی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اپنے خط میں خود کہہ چکے ہیں کہ ’جے آئی ٹی‘ کے اراکین کے کوائف اکٹھے کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’جے آئی ٹی‘ کے ممبران سے متعلق کوائف معمول کی کارروائی کے طور اکٹھے کیے گئے۔ تاہم، اُن کی طرف سے ایسے الزامات کی سختی سے تردید کی گئی کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کسی رکن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کیا گیا ہو۔بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو سپریم کورٹ نے مقرر کیا اور اس تناظر میں انٹیلی جنس بیورو کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ’جے آئی ٹی‘ کے ممبران کے کوائف اکٹھے کرے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ اس بارے میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کا مؤقف بھی سننا چاہیئے۔ لیکن، تین رکنی بینچ کی طرف سے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ’آئی بی‘ کے سربراہ کا خط اعتراف جرم کے مترادف ہے۔جے آئی ٹی کی طرف سے سکیورٹی اینڈ اسٹاک کمیشن ’ایس ای سی پی‘ پر بھی الزام لگایا تھا کہ یہ ادارہ تحقیقاتی عمل پر اثر انداز ہو رہا ہے، اگرچہ ’ایس ای سی پی‘ ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔تاہم، عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔واضح رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ’جے آئی ٹی‘ کی طرف سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو بتایا گیا تھا کہ معاملے کی تفتیش کے لیے مختلف متعلق ریاستی اداروں سے جو دستاویزات مانگی گئی ہیں اُن میں نہ صرف مبینہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، بلکہ ریکارڈ کو بھی بدلا جا رہا ہے۔’جےآئی ٹی‘ کی طرف سے اپنے کام میں مداخلت سے متعلق ایک رپورٹ بھی تحریری طور پر عدالت میں جمع کروائی گئی تھی۔لیکن، گزشتہ ہفتے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت میں ایک جواب داخل کروایا، جس میں تمام متعلقہ اداروں اور وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے ایسے الزامات کی سختی سے تردید کی گئی تھی۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا عدالت عظمٰی کے سامنے ایک بیان میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر صورت حال اسی طرح رہی تو عدالت عظمٰی کی ہدایت کے مطابق ’جے آئی ٹی‘ 60 روز میں اپنی تفتیش مکمل نہیں کر سکے گی۔تاہم، عدالت کا کہنا ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کو 60 روز ہی میں اپنا کام مکمل کرنا ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کی سربراہی میں قائم چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں پاکستان اسٹیٹ بینک، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، قومی احتساب بیورو (نیب)کے علاوہ فوج کے دو انٹیلی جنس اداروں، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس، کے نمائندے بھی شامل ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے علاوہ وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بھی ’جے آئی ٹی" کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، جن سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: