ڈاکٹر روتھ فاؤ کے جانے سے جذام کے مریض بے سہارا

11 Aug, 2017 وائس آف امریکہ اردو
جب کسی انسان کی ہڈیوں سے گوشت علیحدہ ہوکر جھڑنے لگے، ہاتھ ، پیروں کی انگلیاں ’گھل گھل‘ کر ختم ہونے لگیں، جسم سے پیپ اورخون روکنے کے لئے پٹیاں لپیٹی جانے لگیں تو سمجھئے کوڑھ کا مرض ہوگیا ہے۔کراچی —سن پچاس کی دہائی کا واقعہ ہے۔ کراچی کے میکلوڈروڈ جس کا موجودہ نام آئی آئی چندریگر روڈ ہے، اس پر ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ کوڑھ کو مریضو ں کی ایک بستی ہوا کرتی تھی جہاں نہ بجلی تھی، نہ پانی، نہ گیس۔ غلاظت اگلتے گٹر تھے اور کوڑھ یا جزام کے مریضوں کی بہتات تھی۔علاج کی سہولت نہ ہونے کے سبب حالت اس قدر بری تھی کہ مریضوں کے جسم چوہوں کی خوارک بنے ہوئے تھے کیونکہ اس مرض میں جسم کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے اور ایسے میں کوئی جانور کاٹ بھی لے تو مریض کو اس کا احساس نہیں ہو پاتا۔لوگ اس مرض کو لاعلمی کے باعث ’گناہوں کی سزا‘ کہا کرتے تھے اور جزام کے مریض کو، خواہ اس سے ان کا کوئی بھی خونی یا کتنا ہی قریبی رشتہ کیوں نہ ہو، اسے جنگلوں اور ویرانوں میں تنہا چھوڑ آتے تھے۔ انہیں ڈر ہوتا تھا کہ کہیں یہ مرض انہیں نہ لگ جائے۔ان مریضوں کی تیمارداری کرنے والا کوئی نہیں تھا اور پوری بستی ہی ایک کے بعد ایک مریضوں سے بڑھتی جارہی تھی جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی یہ مرض پھیلنے کی اطلاعات دنیا بھر میں عام ہو رہی تھیں۔ڈاکٹر فاؤ کی ٹیبل
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: