ملک کی تقدیر کو بدلنا ہے تو نظام بدلنا ہوگا، 14 اگست کو اپنا پروگرام دوں گا: نواز شریف

13 Aug, 2017 نوائے وقت
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو باوقار اور مستحکم بنانے کے لئے نظام کی تبدیلی ضروری ہے ، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں ، ان کے ساتھ بیٹھ کر تعاون کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کی دنیا بھر میں تذلیل کی جاتی ہے ۔ خدشہ ہے کہ اب آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بھی نا اہل نہ کر دیا جائے ، جلد مقبوضہ کشمیر بھی آزاد کشمیر کا حصہ بن جائے گا۔ مجھے اقتدار اور اپنی جان کی پرواہ نہیں ، فکر صرف پاکستان کے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کی ہے ۔ دو تین سال تک ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو جانا تھا۔ 1947 ء سے پاکستان کے وزرائے اعظم اور پاکستان کی تقدیر کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ جلد عوام کو پروگرام دوں گا ، وعدہ کریں کہ نواز شریف کا سچے دل کے ساتھ ساتھ دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی نا اہلی کے بعد اسلام آباد سے لاہور تک چار روزہ سفر کے بعدریلی کے اختتام پر داتا دربار کے باہر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شرکاء سے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی خطاب کیا جبکہ وزیر اعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر ، وفاقی و صوبائی وزراء اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ آج لاہور میں کیا دیکھ رہا ہوں ، یہ منظر لاہور میں پہلے کبھی نہیں دیکھا، لاہور کے باسیو، آپ نے مجھے وزیر اعظم بنا کر اسلام آباد اپنے ووٹ کی طاقت سے بھیجا تھا اور پانچ لوگوں نے مجھے نا اہل قرار دے دیا۔ آپ کو منظور ہے ، حاضرین نے جواب دیا نہیں،’’ وزیر اعظم نواز شریف ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے چوتھے روز سفر کرتے لاہور پہنچا ہوں ، پاکستان کا بچہ بچہ سراپا احتجاج ہے کہ نواز شریف کو کیسے نا اہل کر دیا۔وہ کون سے لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو نا اہل کیا۔ کیا وہ ۔۔۔۔۔۔جو یہ کہتے نواز شریف نے کوئی رشوت ، کک بیک نہیں ، دوسرے ہی دن یہ کہہ کر نا اہل کردیتے ہیں کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اگر نہیں لی تو آپ کون ہیں، لے بھی لیتا تو کیا حرج ، نہیں لی تو کیا حرج، وزیر اعظم کو نا اہل کرنے کی یہ معقول وجہ ہے ۔ 70 سال سے وزرائے اعظم کے ساتھ یہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا پاکستان بدلے گایا نہیں بدلے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں آپ نے ووٹ دیا اور کہا کہ نواز شریف پنکھا نہیں چلتا ، چولہا نہیں چلتا، چار سال مکمل ہوئے ہیں بجلی آنا شروع ہو گئی ہے یا نہیں ، گیس بھی آنا شروع ہو گئی ہے ، یہاں میٹروبس چل رہی ہے اور اورنج لائن بھی تقریبا تیار ہوگئی ہے ، غریبوں کو کتنی سہولت ملی ہے ، 20 ، 25 روپے میں غریب آدمی شہر بھر کا سفر کرتا ہے ، پہلے سینکڑوں روپے لگتے تھے۔ آج سڑکیں بن رہی ہیں ، ملک خوشحال ہو رہا ہے ، ترقی عروج پر ہے ، امن قائم چکا ہے اور ہو رہا ہے ، جب اتنے اچھے کام ہو رہے ہیں تو کون سے لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو نا اہل کیا۔وہ ایک روز پہلے کہتے ہیں نواز شریف نے کرپشن نہیں کی اور کوئی کک بیک نہیں لی اور اگلے ہی روز وزیر اعظم کو نا اہل کردیتے ہیں ۔ وزیر اعظم کے ساتھ یہ سلوک ہمیں منظور نہیں ہے ، 1947 ء سے یہی سلوک ہو رہا ہے اوسطا ڈیڑھ سال ایک وزیر اعظم کو ملے۔ ڈکٹیٹروں نے تیس سال حکومت کی اب یہ نہیں ہو گا۔ اسلام آباد سے لاہور تک جو جذبا میں نے لوگوں کے دیکھے یہ جذبہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے ۔ اگر یہ انقلاب نہ آیا تو غریب ہمیشہ غریب رہے گا۔ انقلاب نہ آیا تو حوشحالی نہیں آوے گی ، بے روز گار بے روز گار ہی رہیں گے ۔ ہماری قوم دنیا کی بد ترین قوم بن جائے گی۔اس خطہ میں پاکستان جیسا کوئی ملک نہیں ہے یا سارے وزرائے اعظم غلط تھے انہیں مدت پوری کیوں نہ کرنے دی گئی۔ انہوں نے سواہل کیا کہ پاکستان ترقی کر رہا تھا یا نہیں، یہ کون ہیں جو پاکستان کے ساتھ اتنا ظلم کرتے ہیں ان کا حساب ہونا چاہیے یا نہیں، لاہور والو، آپ ہمیشہ سچی بات کرتے ہو، جنہوں نے پاکستان کے ساتھ یہ تماشا کیا، کھیل کھیلا ان کا احتساب ہونا چاہیے یا نہیں۔ میں نے بڑی محنت کی، بیس بیس ماہ میں بجلی کے کارخانے مکمل کئے ، خون پسینہ بہایا ہے ، اربوں ، کھربوں کی بچت کی اور ملک کا زرمبادلہ بچایا، اب پاکستان میں صرف بجلی آنہیں رہی بلکہ سستی بجلی ہو رہی ہے تا کہ کارخانے چلیں ، کاشتکار کو سستی بجلی ملے ، گھروں میں بھی آئے ، یہ کون لوگ ہیں جو ترقی کے سفر کو سبوتاژ کرتے ہیں ، آپ انہیں پہچانتے ہیں ، آپ کو جرات سے کام لینا ہو گا ، پاکستان 71 ء میں حادثہ ہوا دو لخت ہو گیا ، مجھے ڈر لگتا ہے ، اللہ نہ کرے دوبارہ ایسا حادثہ ہو، میاں نواز شریف نے کہا کہ آپ سوال کا جواب دیں کہ یہ کونسا سال ہے ، 2017 ء ہم 2013 میں آئے کیا 2013ء اور 2017ء میں کوئی فرق ہے ، 2017ء کا پاکستان 2013ء سے بہتر ہے یا نہیں ہے ، پھر نواز شریف کو شاباش ملنی چاہیے تھی یا نا اہل ہونا چاہیے تھا، آپ 20 کروڑ عوام پاکستان کے مالک ہیں ، چند لوگوں کی اجارہ داری 20 کروڑ عوام پر حاوی ہونی چاہیے، 20 کروڑ عوام کی کوئی عزت ہے یا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو یہ کر رہا ہے ، دیکھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے بجلی کا کہا ، بجلی آئی، گیس کا کہا گیس آئی، امن کا کہا امن آیا ، اب آپ اگر مجھے کہیں گے ووٹ کی حرمت چاہیے تو وہ بھی ہو گی ، مجھے اپنی جان اور اقتدار کی پرواہ نہیں ہے ، میری جان آپ ہیں ، نواز شریف نے آپ کو کبھی دھوکہ نہیں دیا ، دھوکہ دینے والے یہاں بہت آئے ہیں ، پچھلے چار سال میں جو ہوتا رہا آپ نے دیکھا، یہاں دھرنے ہوتے رہے ، حکومت کے خلاف سازشیں ہوئیں، ایک سال سے وزیر اعظم کو نا اہل کرنے کے لئے کیس چل رہا ہے ، اس کے باوجودبجلی بھی آئی، گیس بھی آئی، اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی مکمل ہو رہا ہے اور بہت سے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سازشیں نہ کی جاتی تو اب تک اور بھی بہت کچھ ہو گیا ہوتا ، مجھے اقتدار کا لالچ نہیں بلکہ آپ کے بچوں اور آپ کے خاندان کی فکر ہے ، جس رفتار سے ترقی ہو رہی تھی امید تھی دو تین سال میں ملک میں کوئی بے روزگار نہیں رہے گا ، میں ڈرتا نہیں اور نہ ہی گھبرانے والا ہوں ، جب تک ملک کی تقدیر نہیں بدل جاتی چین سے نہیں بیٹھوں گا، مجھے اقتدار کی لالچ نہیں ، صرف ایک خواہش ہے کہ میرے ملک کے باسیوں کی تقدیر بدلے جس کیلئے ہمیں نظام کو بدلنا ہو گا۔ جسے وائرس لا حق ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اوپر کی طرف جا رہا تھا ، انہوں نے اسے پھر نیچے کی طرف دھکیل دیا ہے ۔پاکستان بدلے گا تو آپ کی تقدیر بدلے گی اور ملک میں انصاف آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیس ، تیس سال تک مقدمات کے فیصلے نہیں ہو تے۔ ملک میں نہ معاشی انصاف ہے اور نہ معاشرتی ، ایسا نظام لائیں گے کہ اگر کسی کے ساتھ نا انصافی ہو گی تو 90 دن میں انصاف ملے گااس کیلئے ہمیں آئین اور نظام میں تبدیلی لانا ہو گی ۔ جو غریب عدالتی فیس ادا نہ کر سکے گا اس کی فیس ریاست ادا کرے گی۔ نواز شریف جھوٹا وعدہ کبھی نہیں کرتا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کو ووٹ کی حرمت چاہیے ؟اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو نواز شریف کا ساتھ دینا ہو گا ۔ پرسوں 14 اگست ہے اس آزادی کے لئے ہماری بزرگوں نے بہت قربانیاں دیں لیکن ہم پاکستان کو قائم نہ رکھ سکے ، 1971ء میں ایک حصہ الگ ہو گیا ، کیاہمارے ہمسائیہ ممالک میں بھی ایسے حالات ہیں ، میں کل تک وزیر اعظم تھا لیکن آج نہیں ہوں۔ میں اقتدار کیلئے نہیں بلکہ انصا ف کیلئے نکلا ہوں ۔ نواز شریف عوام کی حکمرانی کیلئے نکلا ہے ، مجھے اپنی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے وعدہ کرنے سے پہلے ، دل سے پو چھو ، پھر سچا عہد کروں کہ میرے ساتھ اس وعدے کو نبھاؤ گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دنیا میں تماشا بنا دیا گیا ہے ۔ آپ کو وعدہ کرنا ہے کہ پاکستان میں انقلاب برپا کرنے کے لئے نواز شریف کا ساتھ دو گے۔انہوں نے کہا کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا ، بلوچستا ن اور دیگر صوبوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ لیکن اب پاکستان ایسے کسی حادثے کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 80 فیصد آبادی آج بھی بے گھر ہے ، میرے ایجنڈے میں شامل تھا کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے بعد بے گھر لوگوں کو سستے گھر دیئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان 20 کروڑ عوام کی ملکیت ہے ، عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کو موقع ملا تو وہ نظام کو تبدیل کرے گی اور پاکستان میں لوگوں کوتیزی سے انصاف ملنے کے ساتھ ساتھ ترقی کا عمل بھی تیز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے جو تجاویز دی ہیں میں ان سے اتفاق کرتا ہوں اور ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر تعاون کیلئے تیار ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے ایک وزیر اعظم کو نا اہل کر دیا گیا ،ہمارا ایک وزیر اعظم آزاد کشمیر میں موجود ہے ، مجھے خدشہ ہے کہ اسے بھی نا اہل نہ قرار دے دیا جائے کیونکہ اس کی ٹانگیں کھینچی جا رہی ہیں ۔ تا ہم انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کے ساتھ ہے ، وقت آنے والا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھی آپ کا حصہ بنے گا۔ نواز شریف نے بلوچستان میں دھماکہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملٹری و سویلین شہداء کی مغفرت و درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں جلد عوام کو پروگرام دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں گے ۔ راولپنڈی، گجرات ، جہلم ، گوجرانوالہ، شاہدرہ ، ہرجگہ پر عوام نے میرا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ نواز شریف کے انقلابی پروگرام کی مکمل سپورٹ کریں گے۔وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے کہا کہ پنڈی سے لاہور تک ریلی میں سب سے زیادہ متحرک پاکستان کے نوجوانوں، بیٹوں اور بیٹیوں تھا۔ سب سے بڑا جھوٹ بولنے ، یوٹرن مارنے اور غلط بیانی کرنے والے اس نیازی پر جو اسے غلط فہمی تھی یوتھ اس کے ساتھ ہے ، یوتھ نے نیازی صاحب کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ انقلابی تبدیلی آچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چودہ اگست کی آمد ہے ، داتا دربار کے سائے تلے ٹھاٹھیں مارتا سمندر گواہی دے رہا ہے ، لاکھوں شہیدوں کا خون ، روحیں جو تڑپ رہی تھیں ، ملک میں ظلم ستم ہے۔ نواز شریف صاحب آپ کو پانامہ نہیں اقامہ پر سزا دی گئی ، پوری دنیا کہہ رہی ہے ، جو ٹی وی پر بھاشن دے رہے ہیں نے کروڑوں لوٹے اور ان کی توندیں بڑھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ سے اقامہ نے میری بات ثابت کر دی کہ نواز نے کرپشن نہیں کی ، آج اتحاد کی ضرور ت ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی آئی یا نہیں، یہ نواز شریف قیادت میں ہوئی، چار سال میں کوئی ہم پر ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں لا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اورنج لائن، میٹرو اور میگا ترقی یاتی منصوبوں کی مخالف نیازی، ق لیگ، پیپلز پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد عوام کو اورنج ٹرین ملنے وال ہے ، شاندار سفر ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہ امتحان کا وقت ہے ۔ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کی تعمیر کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے یا مخالفت کرنے والوں کا۔ انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے خون کیک قسم پاکستان کو نواشریف کیک قیادت میں عظیم بنائیں گے ۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: