فخر زمان میں متعدد فرنچائزز کی دلچسپی

13 Sep, 2017 بی بی سی اردو
پاکستان سپر لیگ کی کم ازکم تین فرنچائزز نے فخر زمان کو لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں اپنی ٹیم میں شامل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ فخر زمان نے دوسری پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کی نمائندگی کی تھی۔
فخر زمان
Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان چیمپیئنز ٹرافی میں شاندار کارکردگی کے بعد شہرت کی بلندی پر پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کی کم از کم تین فرنچائزز نے انھیں لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں اپنی ٹیم میں شامل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

خیال رہے کہ فخر زمان نے دوسری پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کی نمائندگی کی تھی۔

آزادی کپ: پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے ورلڈ الیون کو باآسانی 20 رنز سے ہرا دیا

'پاکستان کا کرکٹ کلچر پھر سے سانس لے رہا ہے'

چیمپیئنز ٹرافی فائنل: فخر زمان کی شاندار پہلی سنچری کی جھلکیاں

کرکٹ بورڈ نے تیسری پاکستان سپر لیگ کے لیے جن قومی کھلاڑیوں کی فہرست مختلف کیٹگریز کے لحاظ سے مرتب کی ہے اس میں فخر زمان کو دو کیٹگریز ترقی دیتے ہوئے ڈائمنڈ کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔

دوسری پاکستان سپر لیگ میں فخر زمان سلور کیٹگری میں تھے تاہم اب یہ معلوم ہوا ہے کہ لاہور قلندر فخر زمان کو ڈائمنڈ کی بجائے گولڈ کیٹگری میں کھلانا چاہتی ہے اور اس حوالے سے آئندہ چند ایک روز میں فخر زمان کے بارے میں صورت حال واضح ہوجائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تیسری پاکستان سپر لیگ کے لیے جو فہرست مرتب کی ہے ان میں 11 کرکٹرز پلاٹینم کیٹگری میں شامل ہیں جن میں سے تین کرکٹرز عماد وسیم، کامران اکمل اور محمد حفیظ ترقی پا کر اس کیٹگری میں شامل ہوئے ہیں۔ گذشتہ ایونٹ میں عماد وسیم اور کامران اکمل گولڈ جبکہ محمد حفیظ ڈائمنڈ کیٹگری میں شامل تھے۔

ڈسپلن اور فٹنس کی وجہ سے اپنے کریئر میں مشکلات کا شکار عمر اکمل کا نام پلاٹینم کیٹگری میں شامل ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دو کھلاڑی شاداب خان اور حسن علی ایمرجنگ کیٹگری سے ترقی پا کر اب گولڈ کیٹگری میں شامل کیے گئے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کی اس فہرست میں حیران کن طور پر شاہ زیب حسن کا نام بھی شامل ہے حالانکہ ان کا معاملہ ان دنوں پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں زیرِ سماعت ہے اس کے باوجود سلیکٹرز نے ان کا نام پاکستان سپر لیگ کے کھلاڑیوں میں شامل کر رکھا ہے۔

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: