میانمار روہنگیا اقلیت پر تشدد ختم کرے، اقوام متحدہ کا مطالبہ

14 Sep, 2017 وائس آف امریکہ اردو
بدھ کے روز گوٹیریس نے کہا کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین کی صورت حال کی سب سے بہتر وضاحت ان الفاظ میں کی جا سکتی ہے کہ وہاں نسلی صفائی کی جار ہی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انیٹونیو گوٹیریس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز میانمار کے حکام پر زور دیا کہ وہ ملک کی بودھ اکثریت کی جانب سے روہنگیا مسلم اقلیت پر تشدد بند کرانے کے لیے اقدامات کریں جس کی وجہ سے لگ بھگ چار لاکھ افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہوئے۔بدھ کے روز گوٹیریس نے کہا کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین کی صورت حال کی سب سے بہتر وضاحت ان الفاظ میں کی جا سکتی ہے کہ وہاں نسلی صفائی کی جار ہی ہے۔انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب روہنگیا مسلمانوں کی ایک تہائی آبادی ملک چھوڑ کر بھاگ جائے تو اس صورت حال کو آپ اور کن لفظوں میں بیان کر یں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے میانمار کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دیں، تشدد بند کریں اور قانون کی حکمرانی بحال کریں اور ان تمام لوگوں کی واپسی کے حق کو تسلیم کریں جنہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے پر کئی بار میانمر کی لیڈر آنگ ساں سوچی سے بات کی ہے۔میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہے جب کہ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمان کہتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی اس کارروئی کا مقصد روہنگیا اقلیت کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔میانمار میں تشدد پر غور کے لیے بدھ کے روز ہونے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست برطانیہ، اور سویڈن نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے أمور سے متعلق سربراہ زید رعد الحسین کے بیانات کے بعد کی تھی۔زید نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کو بتایا کہ ان کے دفتر کو میانمار کی سیکیورٹی فورسز اور مقامی ملیشیاؤں کے ہاتھوں ریاست راکھین میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور روہنگیا مسلم اقلیت کی بستیوں کو نذر آتش کرنے کے بارے میں بہت سی رپورٹس اور سیٹلائٹ کی تصاوير موصول ہوئی ہیں ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے أمور کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال میں نے انتباہ کیا تھا کہ روہنگیا میں انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیوں کا انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہاں کمیونٹی کے خلاف منظم طریقے سے حملہ کیا جا رہا ہے، جس پر اگر کوئی عدالت سماعت کرے تو وہ امکانی طور پر انسانیت کے خلاف حملے تک کے ضمرے میں آتا ہے ۔ کیوں کہ میانمار نے انسانی حقوق کے تفتیش کاروں تک کو رسائی سے انکار کر دیا ہے، اس لیے موجودہ صورت حال کا ابھی مکمل طور پر اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، تاہم یہ صورت حال بدستور نسلی تطہیر کی ایک واضح مثال ہے یا مثال دکھائی دیتی ہے ۔انسانی حقوق سے متعلق أمور کے ہائی کمشنر زید رعد الحسن نے اپنے بیان میں میانمار کے فوجیوں کے بارے میں ان رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا جن میں کہا گیا ہے کہ وہ مشترکہ سرحد کے سات بارودی سرنگیں نصب کر رہے ہیں ۔فیس بک فورم
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: