انقرہ: کرد راہنما کے مقدمے کی سماعت کا آغاز

08 Dec, 2017 وائس آف امریکہ اردو
پانچ سو صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں، دمرتاس پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کی سربراہی کی، دہشت گرد پروپیگنڈہ پھیلایا اور نفرت اور جرائم کو فروغ دینے کی نوعیت کی اشتعال انگیزی کیواشنگٹن —انقرہ میں کُرد حزب مخالف پارٹی کے قائد، صلاح الدین دمرتاس کے خلاف مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔ دمرتاس پر دہشت گردی کا الزام عائد ہے اور مقدمے سے پہلے اُنھیں ایک سال سے زائد عرصے سے زیر حراست رکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس مقدمے پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔قید میں بند کرد راہنما کے حامیوں نے انقرہ کے سنکان جیل کے باہر مظاہرہ کیا، جہاں جمعرات کے روز کرد لیڈر کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔پانچ سو صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں، دمرتاس پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کی سربراہی کی، دہشت گرد پروپیگنڈہ پھیلایا اور نفرت اور جرائم کو فروغ دینے کی نوعیت کی اشتعال انگیزی کی۔تنازع اُن کے خلاف جیل میں مقدمہ چلانے پر اٹھ کھڑا ہوا ہے، چونکہ اُن کے کمرہ عدالت میں محض 20 افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔دمرتاس کی "ایچ ڈی پی" پارٹی کے ایک سابق پارلیمانی معاون، حسیب کپلان نے جیل خانے کے باہر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سماعت کے انتظام پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ فیس بک فورم
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: