شادی کی خواہش نے تین افراد کی جان لے لی

10 Jan, 2018 بی بی سی اردو
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کے مطابق ایک نوجوان نے مبینہ طور پر رشتہ دینے سے انکار پر مقامی رقاصہ اور ان کے والد کو چھریوں کے وار کرکے قتل کرنے کے بعد گولی مار کر اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کردیا۔
رقاصہ
BBC
رقاصہ کے والد نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان نے مبینہ طور پر رشتہ دینے سے انکار پر مقامی رقاصہ اور ان کے والد کو چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا ہے جبکہ بعد میں نوجوان نے فائرنگ کرکے اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کردیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح پشاور شہر کے گنجان آباد علاقے کاکشال گلدرہ چوک میں یکہ توت پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔

یکہ توت پولیس سٹشین کے ایک اہلکار گلفام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ارمڑ کے علاقے کے ایک نوجوان علی اکبر آفریدی کی پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک مقامی رقاصہ بریشنہ سے دوستی تھی اور ان سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا تاہم خاتون کے والد رشتہ دینے سے انکاری تھے۔

انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح نوجوان رقاصہ کے گھر میں داخل ہوا اور اس دوران ان کی والد سے کسی بات پر تکرار ہوئی جس پر نوجوان نے غصے میں آکر چھریوں کے وار کرکے رقاصہ کے والد کو شدید زخمی کردیا۔

پولیس کے مطابق لڑائی کے دوران رقاصہ بھی والد کو بچانے کےلیے دوڑی پڑی لیکن اس دوران نوجوان نے اپنی محبوبہ کو بھی معاف نہیں کیا اور ان پر بھی چھریوں کے متعدد وار کئے جس سے وہ شدید زخمی ہوکر زمین پر گرگئیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جس وقت زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا عین اس وقت نوجوان علی اکبر نے فائرنگ کرکے اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر دیا جبکہ رقاصہ اور ان کے والد بھی بعد میں ہپستال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑگئے۔

پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی ہیں جبکہ اس واقعے کی رپورٹ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مقامی رقاصہ بریشنہ کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی اور ان کی نوجوان علی اکبر سے کافی عرصے سے دوستی تھی تاہم ان کے والد اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکاری تھے۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: