قومی اسمبلی: سپریم کورٹ‘ پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ فاٹا تک بڑھانے کا بل منطور

13 Jan, 2018 نوائے وقت
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی قبائلی علاقوں تک توسیع کے بل پر رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ خورشید شاہ اور نوید قمر نے کہا یہاں بل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا ذکر تھا کمیٹی نے پشاور ہائی کورٹ کیا ہے۔ وزیر قانون محمود بشیر ورک نے تحریک پیش کی کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کے بل 2017ء کو زیر غور لایا جائے۔ ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا۔ نعیمہ کشور خان نے کہا یہ بل ایجنڈا میں شامل نہیں تھا اس کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ ارکان کی اکثریت نے ایجنڈا کو معطل کرکے بل کو زیر غور لانے کی درخواست کی۔ بل میں غلطیاں ہیں‘ ہم اس پر بحث کرنا چاہتے تھے۔ نعیمہ کشور خان نے بل میں ترمیم پیش کی۔ وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے اس کی مخالفت کی۔ ایوان نے ترمیم مسترد کردی۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہم احتجاجاً اپنی ترمیم پیش نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی نے بل کی تمام شقوں کی منظوری دے دی۔ اس بل کا مقصد فاٹا کے لوگوں کو ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق مرکزی دھارے میں لانے کے لئے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ پشاور کے اختیار سماعت کو مذکورہ علاقے تک توسیع دی جارہی ہے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے اور انہیں دستور کی مطابقت میں انصاف کے صحیح انصرام کا اہتمام کیا جاسکے۔ جے یو آئی (ف) کے ارکان نے بل کی منظوری کے دوران ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ بھی کیا تاہم ان کی جماعت کے وزیر برائے پوسٹل سروسز اور محمد خان شیرانی نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا پہلے ہم نے انتخابی اصلاحات کیں۔ ایف سی آر کا خاتمہ کرتے ہوئے اعلی عدالتوں کا دائرہ کار بھی فاٹا تک بڑھا دیا۔ مطالبہ ہے کہ اسی دور میں پارلیمنٹ فاٹا کے انضمام کا تاریخی کام بھی انجام دے۔ فاٹا کے عوام کی بے مثال قربانیوں کے صلے میں فاٹا کا خیبر پی کے میں انضمام کیا جائے۔ اگلے سیشن میں فاٹا انضمام کا بل بھی ایوان میں لایا جائے۔ قبل ازیں اجلاس کے آغاز پر معصوم زینب کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرائی گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرکے ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر بحث کی تحریک پیش کی گئی جسے منظور کرلیا گیا۔ سپیکر نے کہا جو کچھ معصوم بچی کے ساتھ ہوا افسوسناک ہی نہیں شرم ناک ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ مر جانا یا مار دینا اتنی بڑی بات نہیں لیکن ہم سب بچوں والے ہیں، بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ قصور واقعہ پنجاب حکومت کی ناکامی ہے۔ موٹر سائیکلوں پر فورس دکھا رہے ہیں کہ پنجاب محفوظ ہے، کہاں ہے محفوظ پنجاب، یہ واقعہ ان واقعات کا تسلسل ہے جن پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہم اس کام میں کھو جاتے ہیں حکومت کیسے بچانی ہے۔ میں بچانے کی بات کر رہا ہوں چلانے کی نہیں۔اگر حکومت چلائی جاتی تو ایسے واقعات نہ ہوتے۔ ایک ایس پی کو ہٹا دینا بڑی بات نہیں۔ قصور کے واقعے نے پورے ملک کومتاثر کیا ہے، جن کی بیٹیاں ہیں وہ والدین تشویش میں ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کوتحفظ دے، پارلیمنٹ اب نتائج مانگے گی۔صوبوں میں جرائم کی شرح سے متعلق اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں۔ جرائم کے اعدادوشمار سے واضح ہوگا کس صوبے کی حکومت ناکام ہے۔ وزیرمملکت پارلیمانی امور محسن شاہنواز رانجھا نے کہا قصور واقعہ پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے۔ یہ سماجی اور معاشرتی دہشت گردی ہے۔ یہ برائی ہر جگہ موجود ہے جس کا تدارک کرنا ہو گا، اس طرح کے واقعات پاکستان کے کئی شہروں میں ہوئے ہیں۔کیا لاڑکانہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسے واقعات نہیں ہوئے، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا ایسے واقعات پر ہم نے خود توجہ نہیں دی۔ سال پہلے قصور واقعہ کے بعد ہمارے دور حکومت میں باقاعدہ قانون سازی ہوئی، عمرقید کافی نہیں، ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے۔ شیریں مزاری نے کہا ایسے واقعات میں عمر قید کی سزا قوم اور قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصور بچی کے قتل اور مظاہرے کے دوران دو افراد کے قتل میں بھی شفاف تحقیقات کی جائے۔ قصور واقعہ سے ظاہر ہے حکومت ناکام ہوچکی ہے اور اسے اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اس معاملے میں قرارداد پاس کرنا بے معنی ہے بلکہ اس معاملے میں عملی کارروائی کا مطالبہ ہونا چاہیے اور کارروائی کی نگرانی ایک پارلیمانی کمیٹی کو کرنی چاہیے۔ بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے حوالے سے تعلیمات دی جائیں اور میڈیا پر اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جائیں۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا ہے زینب ہماری بچی ہے‘ ہماری ہمدردیاں اس کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ایوان کو قانون سازی کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ ایوان میں جنرل خالد شمیم وائیں‘ ایئرمارشل (ر) اصغر خان اور سکیورٹی ایجنسیوں کے شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔ وزیر مملکت طلال چودھری نے ایوان کو زینب قتل اور اس کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ میں کہاکہ بچوں سے زیادتی کے واقعات پورے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ ایک چھوٹی کمیٹی بنا دیتے ہیں جو جائزہ لے کہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ مستقبل میں ایسے قوانین بنائے جائیں کہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ زینب قتل کے معاملے میں پورے ادارے کو ہدف تنقید نہ بنایا جائے۔ پنجاب پولیس ہی گھنٹوں میں مجرمان تک پہنچے گی۔ طلال چودھری نے کہا کہ قصور میں آگ لگائی گئی۔ لوگوں کو حالات خراب کرنے کیلئے اکسایا گیا۔ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے ایم پی ایز کے نمبر دیکر لوگوں کو اکسایا گیا۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس واقعہ کی ایک ماں ہونے کی حیثیت سے مذمت کرتی ہوں۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس ملک کا ہر شہری اور ایوان کے تمام ممبران شرمندہ ہیں۔ پاکستان میں آج ہر آنکھ اشکبار ہے۔ دوسرے ممالک میں واقعات ہوتے ہیں مگر مجھے اس بات سے غرض ہے کہ پاکستان میں یہ واقعہ کیوں ہوا۔ پورے ملک میں ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا مضمون آج تک کسی بھی صوبے کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ ہم اس میں دین اور مذہب کو لیکر آتے ہیں۔ ہمارے نصاب میں مغربیت ہے مگر یہ قوانین موجود نہیں ہیں۔ مساجد سے حقوق العباد کے حوالے سے بات ہونی چاہئے۔ علماء بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ بات کی جائے‘ عملی طریقہ اپنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔ والدین رپورٹ درج کرانے جاتے ہیں تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا ایسے درندوں کو ایسی سزا ملے ان کو کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہئے۔ انفرادی ذمہ داری بھی ہمیں ادا کرنی ہوگی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے شامل کیا جانا چاہئے۔ ارکان نے زیادتی کے مرتکب مجرموں کو چوراہوں میں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن ارکان نے اس واقعہ کوحکومت کی ناکامی قرار دیا جبکہ سرکاری ارکان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری بجا‘ لیکن یہ ایسی معاشرتی برائی ہے جس کے خلاف ہر سطح جدوجہد کی ضرورت ہے۔ شاہنواز رانجھا نے تجویز دی کہ ڈی این اے کو قومی شناختی کارڈ کا حصہ بنایا جائے کیونکہ سانحہ قصور میں ایک ہی ڈی این اے مل رہا ہے‘ لیکن ملزم کی نشاندہی نہیں ہو رہی۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اس ملک میں بدکاری آسان اور نکاح کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ شادی کرنے کیلئے جانے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی کشور زہرا نے کہا سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں بلکہ کچھ سوال ہیں جس کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ دو کلومیٹر کے دائرے میں واقعات ہوئے ہیں۔ وہاں ایسے کیمرے نصب کئے گئے ہیں جس سے نشاندہی بھی نہیں ہو سکتی بلکہ شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے مشتعل لوگوں پر گولی چلائی جا سکتی ہے مگر ملزموں کو پکڑا نہیں گیا۔ وفاقی وزیر برائے سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام کافیصلہ آرٹیکل 247 کے مطابق کیاجائیگا، فاٹا کے انضمام پرہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عمل داری کو فاٹا تک بڑھایا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان سے اتفاق کیا کہ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ وقتی طور پر نہیں چھیڑا جائے گا،فاٹا ریفارمز میں 2نکات پر مزید کارروائی روک دی گئی ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عبدالقادربلوچ کو اپنے تحفظات سے آ گاہ کردیا، وزیراعظم نے یقین دلایاکہ فاٹاکامعاملہ روک دیاہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر عبدلقادر بلوچ نے کہا کہ اتحادی جے یو آئی کا اس نقطہ پر اختلاف تھا، مولانا فضل الرحمان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، اتفاق کیا کہ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ وقتی طور پر نہیں چھیڑا جائے گا، فاٹامعاملے پرمولانافضل الرحمان سے اختلافات نہیں،فاٹا کوقومی دھارے میں لایاجائیگا۔ انہوںنے کہا کہ جب سیاسی جماعتیں متفقہ مطالبہ کریں گی تو صدر کو درخواست کی جائے گی، حکومت فاٹا کو 5 سال سے پہلے قومی دھارے میں لائے گی،اس سال صوبائی سیٹوں پر الیکشن اوررواج ایکٹ کو روکاگیا ہے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹاکامعاملہ قومی اسمبلی کے ایجنڈا سے نکالنے پرہنگامہ ہوا، ہم نے دباؤنہیں ڈالا،عبدالقادربلوچ نے خود ملاقات کی،اسپیکرکوکیاجلدی تھی جوانہوں نے ووٹنگ کی بات کی؟اسپیکر کیساتھ ایڈوائزری کمیٹی میں بھی آج کہا گیا کہ یہ بل نہیں آرہا،فاٹاکامعاملہ شائستگی سے حل کرناچاہتے ہیں، رواج ایکٹ پربھی کارروائی معطل رہے گی۔ علاوہ ازیں فضل الرحمن نے واقعہ قصور اور ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قصور سانحہ انتہائی قابل مذمت اور پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے مگر افسوس کہ کچھ مفاد پرست اور سازشی لوگ اس پر بھی سیاست کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں کیا۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: