جے آئی ٹی سربراہ تبدیل‘ زینب کے قاتل36 گھنٹے میں گرفتار کئے جائیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

13 Jan, 2018 نوائے وقت
قصور+ لاہور+ پتوکی (نمائندہ نوائے وقت+ نامہ نگاران + خصوصی رپورٹر+ نمائندہ خصوصی + خصوصی نامہ نگار + لیڈی رپورٹر) قصور میں بچی کے قتل کے بعد مظاہروں کی شدت میں کمی آ گئی، حالات نارمل ہو گئے۔ شہر بھر میں پولیس اور رینجر کا گشت جاری ہے، زینب کے گھر سیاسی اور حکومتی شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کردیا گیا، صورتحال معمول پر آگئی، پولیس اور رینجر کی بھاری نفری نے شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا،کچھ مظاہرین ٹولیو ں کی شکل میں فیروز پور روڈ پر احتجاج کیلئے آئے جن کو پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کرکے بھگا دیا گیا، ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی سروسز بھی بحال ہوگئیں۔ جے ٹی آئی سمیت آئی جی پنجاب کیپٹن (ر)عارف نواز اور پنجاب کے تمام اعلیٰ افسران قصور میں موجود ہیں وفاقی وزیر عثمان ابراہیم کووزیر اعلیٰ پنجاب نے بذریعہ ہیلی کاپٹر پر بھیجا وہ انصاری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتظامیہ اور متاثرہ خاندان کے درمیان صلح کیلئے رول ادا کریں گے،سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے زینب کے گھر پہنچ کر والدین سے تعزیت کرنے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہاکہ زینب کو حکمران ہر صورت انصاف دیں اور سنجیدہ ہوکر اس کیس کو حل کریں، وزیر تعلیم رانا مشہو د نے کہا کہ زینب کو انصاف جلد فراہم کیا جائے گا۔کچھ مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا بہت جلد بریک تھرو ہوگا، پر یس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر صحت عمران نذیر نے کہا کہ زینب کے ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے گا ملزم کو پکڑکر کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا ،جبکہ زینب کے والد کے اعتراض کے بعد جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کو تبدیل کرکے آر پی او ملتان محمد ادریس کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جے آئی ٹی سربراہ نے زینب کے گھر جا کر اس کے والدین سے ملاقات بھی کی۔ ادھر پتوکی سے نمائندہ خصوصی کے مطابق نامعلوم افراد کے ہاتھوں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے اشراق احمد کی نعش کو گزشتہ روز ڈھولن چک 27میں سپرد خاک کردیا گیا اس موقع پر حکومت پنجاب کی جانب سے متاثرہ خاندان کے لئے 30لاکھ روپے اورمقتول کے والدمنور حسین کے علاج معالجہ کی سہولیات مفت فراہم کرنیکا اعلان کیا گیا۔ اسلام آباد سے وقائع نگار خصوصی کے مطابق تحریک انصاف نے سانحہ قصور پر سینٹ میں تحریک التوا جمع کرا دی ہے۔ جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کیس کو فوجی عدالت میں چلایا جائے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ء قمر الزمان کائرہ، پاکستان علما ء کونسل کے مرکزی چیئرمین مولانا طاہر اشرفی ،پاکستان فلاح پارٹی کے جنرل سیکرٹری امانت علی زینب کے والدین سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اب پنجاب کے تحت و تاج کے قاتلوں کے دن گنے جاچکے ہیں۔ قرآن وسنہ موومنٹ اور جمعیت اہل حدیث پاکستان کے زیر اہتمام لارنس روڈ پر قصور میں قتل ہونے والی بچی زینب کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے سے ناظم اعلیٰ جمعیت پاکستان حافظ ابتسام الٰہی ظہیر ، صدر اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان حافظ محسن جاوید، جمعیت اہل حدیث کے رہنما ڈاکٹر صلاح الدین اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر قصور میں ہونے والے مظالم کے رد عمل میں پورے ملک میں ’’یوم عدل وانصاف‘‘ منایا گیا۔ متعدد مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا عدل وانصاف کا نظام لائے بغیر معاشرے کی خونریزی اور سفاکیت کو روکا نہیں جا سکتا۔ کراچی پر پاک سرزمین پارٹی کے زیراہتمام سانحہ قصور کیخلاف مظاہرہ کیا گیا۔ سول سوسائٹی نے پریس کلب اسلام آباد کے باہر مظاہرہ کیا۔ نیوز ایجنسیوں کے مطابق قصور جبکہ شہر کے سکول بھی کھل گئے‘ ٹرانسپورٹ بھی بحال ہو گئی۔ تاہم بعض علاقوں میں حالات بدستور کشیدہ رہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے دعوی کیا ہے زینب قتل کیس میں ملزم کا پہلا سراغ مل گیا ہے اور کوئی ایک شخص ہے جو تسلسل کے ساتھ بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کر رہا ہے۔ہم اس کے قریب پہنچ چکے ہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ جمعیت علماء پاکستان نورانی کے صدر و ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ سانحہ قصور میں عوامی احتجاج پر حکومتی ردعمل ریاستی دہشت گردی ہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ابوالخیر نے کہا کہ ایک سے بڑھ کر ایک سانحہ رونما ہو رہا ہے۔ وہاڑی، سیالکوٹ، ساہیوال میںبھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ حافظ آباد + وینکے تارڑ سے نمائندہ نوائے وقت اور نامہ نگار کے مطابق جماعت اسلامی کے زیر اہتمام یہاں علی پور روڈ سے نماز جمعہ کے بعد سانحہ قصور کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے مرکزی چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر ساتحہ قصور کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قرارداد منظور کرائی گئیں۔ لاہور سے خصوصی نامہ نگار کے مطابق پاکستان سنی تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ نماز جمعہ کے تمام اجتماعات میں سانحہ قصور کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں، سنی تحریک کے مرکزی رہنما محمد شاداب رضا نقشبندی کی قیادت میں علماء و مشائخ کے وفد نے ننھی زینب کے گھر میں اس کے والد سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا۔ چھانگا مانگا سے نامہ نگار کے مطابق قصور پولیس کے وئیے کے خلاف سینکڑوں طلبہ نے گول چکر پر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لیڈی رپورٹر کے مطابق گزشتہ روز جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام وحدت روڈ پر احتجاجی مظاہرہ ہوا، مظاہرین میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، شاہینہ طارق، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد و دیگر شامل تھے۔ علاوہ ازیں کراچی کرائم رپورٹر کے مطابق کراچی میں بھی کمسن طالبہ کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کی کوشش پر مشتعل افراد نے سکول کے چوکیدار کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔ ابراہیم حیدری میں واقع سکول میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ کراچی میں ہی 11 سالہ بچے سے مبینہ درندگی کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ شاہ پور صدر‘ پاکپتن‘ گگو منڈی سے نامہ نگاران کے مطابق اوباشوں نے تین بچوں اور خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تین اوباش نوجوانوں نے طالبعلم کو شیطانی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیو فلم بنالی۔رمضان کا بیٹا سبحان ٹیوشن سے گھر واپس جا رہا تھا فیصل وغیرہ زبردستی ساتھ لے گئے۔ شاہپور کے محلہ کلیاں کے 2 اوباشوں اسد اور صفدر نے محلہ کے 13 سالہ احسن فیاض کو ورغلاء کر قاضی کالونی لے گئے جہاں خالی مکان میں لے جا کر اسے زبردستی شراب پلائی اور زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ پاکپتن گائوں 2/Kb کے ارشاد کی 16 سالہ بیٹی ممتاز بی بی گھر سے سودا سلف لینے گئی جس کو اوباش عبدالغفار وغیرہ 5 افراد اغوا کرکے رائے ونڈ لے گئے اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعدازاں خاتون ملزم کے چنگل سے فرار ہوکر گھر پہنچ گئی۔ پولیس نے عبدالغفار وغیرہ پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گگومنڈی کے چک نمبر 171 ای بی کے 10 سالہ طالبعلم راحت علی ولد محمد رفیق سکول سے چھٹی کے بعد دوپہر 12 بجے کے قریب گھر واپس جا رہا تھا کہ 25 سالہ شادی شدہ نوجوان شاہ زیب اسے گلی سے زبردستی اٹھا کر اپنے گھر لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا جس سے بچے کی حالت غیر ہو گئی۔ اسلام آباد سے سٹی رپورٹر کے مطابق سیکٹر G-6/1-2 میں نامعلوم افراد نے 6 ماہ کی بچی کو قتل کرکے نعش کچرے میں پھینک دی۔ بچی کی شناخت تاحال نہ ہوسکی۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق سانحہ قصور کے خلاف ننکانہ صاحب میں میونسپل کمیٹی اور مختلف سیاسی و سماجی اور مذہبی تنظیموں کے زیر اہتمام میلاد چوک گول چکر میںاحتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں چیئرمین میونسپل کمیٹی چوہدری نعیم احمد ،صدر پریس کلب ننکانہ صاحب چوہدری افضل حق خاں ، جنرل سیکرٹری سکھ کونسل آف پاکستان سردار سرجیت سنگھ کنول،سید راشد گیلانی،محمد کامران قادری، رانا علی شیر ، رانا کاشف زین جاوید، محمد نعیم جہانگیر،حکیم ریاض احمد، شاہ زیب گجر ،قاری فیاض الحسن سمیت سیاسی و سماجی رہنمائوں، کونسلرز ، صحافیوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث کی اپیل پر شہر بھر کی تین سو سے زائد مساجد اہل حدیث میں خطبائے عظام نے سانحہ قصور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان مجرموں کو باقاعدہ عدالتی پروسیس کے ذریعے نشان عبرت بنایا جائے۔ پریمیئر لاء کالج اینڈ لیگل سپورٹر ایسوسی ایٹس کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ سنی تحریک کے زیر اہتمام سانحہ قصور کے خلاف گوجرانوالہ میں یوم احتجاج منایا گیا۔ سنی تحریک کے ضلعی صدر قاری محمد بوٹا جٹ، ضلعی رہنما حافظ طاہر رضا قادری، سٹی صدر ڈاکٹر حبیب الرحمن، قاری فیصل اقبال سلطانی، سید عرفان شاہ مجددی و دیگر کا کہنا تھا کہ قصور کا واقعہ معاشرتی اخلاقیات کی تنزلی اور بے حسی کا مظہر ہے۔ جماعت اسلامی سٹی یوتھ کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی قیادت امیر جماعت اسلامی مظہر اقبال رندھاوا سٹی صدر یوتھ خرم سلیم کھوکھر، ڈویژنل صدر فرقان عزیز بٹ نے کی۔ کاہنہ سے نامہ نگارکے مطابق کاہنہ میں دو روز میں دو لڑکیاں اغوا، مقدمہ درج کر لیا گیا۔ دھلوکی کے رہائشی عرفان کی پندرہ سالہ بہن (ش) کاہنہ بازارمیں خریداری کرنے کے لیے گئی جہاں سے نا معلوم ملزمان نے اغواء کر لیا۔ دوسرے واقعہ میں محمد کالونی ننگر کے رہائشی دل محمد کی چودہ سالہ بیٹی (س) گھر سے سبزی لینے کے لیے نکلی تو موڑ پر موجود ذوہیب اور لیاقت نامی ملزمان نے زبردستی اغواء کر لیا۔ کراچی میں دس سالہ بچے عثمان کی گمشدگی پر اہل علاقہ نے برنس روڈ پر مظاہرہ کیا۔ علاقہ مکینوں نے الزام لگایا کہ بچہ صبح سے لاپتہ ہے۔ پولیس کوئی تعاون نہیں کر رہی۔ لاہور+ قصور(وقائع نگار خصوصی+ نمائندہ نوائے وقت)لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کیلئے 36 گھنٹے کا الٹی میٹم دیدیا۔فاضل عدالت نے پنجاب بھر میں ننھی بچیوں اور بچوں سے زیادتی کے تمام مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار صفدر شاہین پیرزادہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب بھر میں بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔موثر قانون نہ ہونے سے ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عارف نواز خان پیش ہوئے۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں۔ ملزم کی نشاندہی کرنے والے کیلئے ایک کروڑ انعام بھی رکھ دیا گیا ہے۔ عدالتی استفسار پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ گذشتہ برس میں قصور میں ننھی بچیوں سے زیادتی کے 11 واقعات ہوئے۔227مشتبہ افراد کوگرفتار کیا گیا جن میں سے ستاسٹھ افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا۔ زیادتی کے چھ واقعات میں ایک ہی ملزم کا ڈی این اے میچ ہوا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے سب کے سانجھے ہیں۔ زینب کا معاملہ افسوسناک ہے۔پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ان کے مقدمات کہاں درج ہوئے۔ واقعہ سے معاشرے میں بے چینی پھیلی ہے۔عدالت نے زینب سے زیادتی کے ملزم کو چھتیس گھنٹے میں گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے پنجاب بھر میں بچیوں اور بچوں سے زیادتی کا ریکارڈ طلب کر لیا۔عدالت نے سماعت 15 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے ڈی جی فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھی طلب کر لیا۔ علاوہ ازیں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں پولیس کارروائی میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں شہریوں پر تشدد یا فائرنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ ہدایات انہوں نے گزشتہ روز سنٹرل پولیس آفس میں صوبے کے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ویڈیو لنک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جاری کیں۔ دریں اثنا آئی جی پنجاب عارف نواز نے قصور میں زینب کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر آئی جی عارف نواز نے ملزم کوجلد پکڑنے کی یقین دہانی کرائی۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے بتایا کہ زینب اور اس سے پہلے 7 کیسز میں لئے گئے ڈی این اے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایک ہی شخص نے یہ گھنائونا جرم کیا ہے۔ جونہی اس کیس میں کوئی پیشرفت سامنے آئیگی تو اسے پوری قوم کے سامنے رکھیں گے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: