زینب قتل کیس ، پولیس نے ایک مشتبہ شخص کی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی

14 Jan, 2018 العربیہ
پاکستان کے ضلع قصور میں پولیس نے ہفتے کی روز ایک مشتبہ شخص کی نئی فوٹیج جاری کی ہے۔اس کے بارے میں شُبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ چھے سالہ بچی زینب کے اغوا اور بے دردی سے قتل کے واقعے میں ملوث ہوسکتا ہے۔ اس نئی فوٹیج میں ایک باریش ادھیڑ عمر کا شخص نظر آرہا ہے اور وہ مشکوک انداز میں بازار میں چل رہا ہے۔اس کی زینب کے اغوا کار سے شکل کافی ملتی جلتی ہے ۔اس نے سر پر گہرے رنگ کی گرم ٹوپی ، گرے رنگ کی شلوار قمیص اور بھورے رنگ کی جیکٹ پہن رکھی ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ اب تک صرف واقعے میں ’’ دلچسپی کا حامل‘‘ایک شخص ہوسکتا ہے اور اس فوٹیج سے کیس کی تفتیش میں مزید پیش رفت میں مدد ملے گی کیونکہ اس کی فوٹیج پہلے ملنے والی فوٹیج سے زیادہ و اضح ہے۔ زینب 4 جنوری کو قصور کے علاقے روڈ کوٹ میں و اقع اپنے گھر سے اپنی پھوپھو کے گھر میں دینی سبق پڑھنے کے لیے نکلی تھی اور اس کو ان کے گھر میں پہنچنے سے پہلے ہی راستے سے اغوا کر لیا گیا تھا ۔وہ پانچ روز تک لاپتا رہی تھی اور اس کی لاش 9 جنوری کو کچرے کے ایک ڈھیر سے مزدوروں کو ملی تھی۔سفاک قاتل نے اس کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ پولیس نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا مقتولہ زینب کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ضلع قصور میں گذشتہ ایک سال کے دوران میں پیش آنے والے ایسے ہی سات واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔ حکام نے ان تمام سات کیسوں میں متاثرین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونوں کا موازنہ کیا ہے۔ قبل ازیں صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا تھا کہ زینب کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ۔ اس کو ڈی این اے ٹیسو ں کے نتائج موصول ہوگئے ہیں اور اب ان کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: