قطر ائیر ویز کو اس سال مالی نقصانات کا سامنا، ذمے دار عرب ممالک کا بائیکاٹ

14 Feb, 2018 العربیہ
قطر ائیر ویز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباکر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی فضائی کمپنی کو اس سال خسارے کا سامنا ہوگا ۔انھوں نے چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کو اس کا سبب قرار دیا ہے ۔ اکبر الباکر نے کہا ہے کہ سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال جون سے اپنی فضائی حدود سے قطری طیاروں کے گذرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے جس کی وجہ سے انھیں ترکی اور ایران کا لمبا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور اس طرح ایندھن اور مرمت کی مد میں اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انھوں نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ روٹس کے لمبا ہوجانے کے بعد ہم نے مرمت کی لاگت میں اضافہ کردیا ہے ، ہمارا زیادہ ایندھن خرچ ہوتا ہے۔اس لیے فضائی کمپنی کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے۔میں پہلے ہی یہ کہہ چکا ہوں کہ ناکا بندی کی وجہ سے فضائی کمپنی کو اس سال خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی سرگرمیوں کو محدود کررہے ہیں اور سکڑ رہے ہیں‘‘۔ قطر کے چاروں ہمسایہ عرب ممالک نے گذشتہ سال جون سے اس کے ساتھ زمینی ، فضائی اور سمندری راستے سے روابط بند کررکھے ہیں ۔ان چاروں ممالک نے قطر پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی مالی مدد کا الزام عاید کیا تھا لیکن قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی قطر کی جانب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مالی معاونت کی مذمت کی تھی۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: