خاتون کا سلمان مجاہد پر جنسی زیادتی کا الزام

14 Feb, 2018 اب تک
خاتون کا سلمان مجاہد پر جنسی زیادتی کا الزامکراچی: (13 فروری 2018) رکن اسمبلی اور رہنما ایم کیو ایم پاکستان بہادرآباد گروپ سلمان مجاہد کے خلاف چوبیس گھنٹوں میں دوسری شکایت سامنے آگئی۔ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ سلمان مجاہد بلوچ نے ایم این اے ہوسٹل میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اب بلیک میل کررہے ہیں۔سلمان مجاہدبلوچ کے خلاف چوبیس گھنٹوں میں دوسری شکایت سامنے آگئی۔ پہلے پی ٹی آئی کارکن پر تشدد کا الزام لگا اور اب لڑکی کی عصمت دری کا کیس سامنے آگیا ہے۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ سلمان مجاہد بلوچ نے پارلیمنٹ کے ہوسٹل میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اب اسے مسلسل بلیک میل کررہے ہیں۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےرکن قومی اسمبلی کے خلاف خاتون انسانی حقوق کی تنظیم صارم برنی ٹرسٹ جاپہنچیں اور مدد کی درخواست کی۔ جس پر صارم برنی خاتون کے ہمراہ سٹی کورٹ گئے اور ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دے دی۔ادھر سلمان مجاہد نے اپنا دفاع کرتے ہوئے الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے لڑکی کے خلاف بھی ایف ائی آر درج کروا دی ہے۔سلمان مجاہد بلوچ کیخلاف مقدمہ درجاس سے قبل گذشتہ شب ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ پر شہری کو مبینہ طور پر اسلحہ سے دھمکانے کے الزام پر پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل کی مدعیت میں گزری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔تحریک انصاف کے کارکن احسن علوی نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز ٹو کے قریب میری گاڑی سامنے آنے پر سلمان مجاہد بلوچ اپنی سیاہ رنگ کی گاڑی سے باہر آئے اور اسلحے کے زور پر ہراساں کیا۔واقعے کے خلاف پی ٹی آئی رہنما خرم شیز زمان علی زیدی اور عمران اسماعیل گزری تھانے پہنچے اور سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کرادیا۔ پی ٹی آئی رہنما عمران اسمائیل کا گزری تھانے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کو دربارہ یرغمال نہیں بننے دیں گے۔دوسری جانب سلمان مجاہد بلوچ کا کہنا ہے کہ عمران اسماعیل ان کے خلاف ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ ایک نجی چینل پر پروگرام کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور اسے بڑھا کر اس نہج تک لایا گیا۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ نے میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: