اسحاق ڈار کے خلاف زائد اثاثہ جات ریفرنس میں واجد ضیاء آج پھر پیش ہوں گے

14 Feb, 2018 اب تک
اسحاق ڈار کے خلاف زائد اثاثہ جات ریفرنس میں واجد ضیاء آج پھر پیش ہوں گےاسلام آباد: (14 فروری 2018) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء آج احتساب عدالت میں پیش ہوں گے۔اس سے قبل 12 فروری کو ہونے والی سماعت میں واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ 1992ء کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے مطابق کل اثاثے 9.1 ملین روپے تھے۔انہوں کا کہنا تھا کہ اثاثوں کی مالیت 09-2008 میں 831.6 ملین روپے تک پہنچ گئی، اسحاق ڈارکے اثاثوں میں اسی عرصے میں 91 گنا اضافہ ہوا۔واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ جےآئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کوحتمی رپورٹ پیش کی، اسحاق ڈارسمیت مختلف شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ نے اسحاق ڈارکیس تک محدود رہنا ہے، جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جےآئی ٹی نے ایس ای سی پی، بینکوں، ایف بی آر، الیکشن کمیشن سے ریکارڈ لیا، اس موقع پر جے آئی سربراہ واجد ضیا نے اسحاق ڈارکی ویلتھ اسٹیٹمنٹ عدالت میں جمع کرا دی، ویلتھ اسٹیٹمنٹ مختلف ادوارپرمبنی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈاراثاثوں کی دستاویزات یا ثبوت دینے میں ناکام رہے، اثاثوں پررپورٹ 10جولائی 2017 کوسپریم کورٹ میں دی، واجد ضیا نے کہا کہ اسحاق ڈاربرطانوی کمپنی میں سرمایہ کاری کی وضاحت نہ دے سکے، 2008 میں4.9 ملین برطانوی پاؤنڈ بیٹے کوقرض دیےلیکن بیٹے کا نام ظاہرنہیں کیا گیا۔بعد ازاں عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ایک بار پھر واجد ضیا کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس طبیعت کی ناسازی کے باعث آج بھی اپنا ریکارڈ نہ کراسکے۔اس سے قبل نیب عدالت نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ کی عدم پیشی پر کیس کی سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے کا وقعہ کردیا تھا۔سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے استفسار کیا، ‘کیا واجد ضیاء نہیں آئے؟جس پر پراسیکیوٹر نیب نے آگاہ کیا کہ جےآئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بلایا ہوا ہے، معزز جج نے کہا کہ آج پھر تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کروا لیں۔پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ جی بالکل آج ہی واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ کرائیں گے، کل تو بہت رش ہوگا۔جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا،جے آئی ٹی نے بھی وقت پر تحقیقات کیں، ہم سماعت میں تاخیر کریں یہ مناسب نہیں، معزز نے مزید کہا کہ کچھ دیر کا وقفہ کرتے ہیں، جس کے بعد سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کر دیا گیا ہے۔دریں اثناء اس سے قبل 08 فروری کو پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نیب عدالت میں پیش ہوئے تھے ، تاہم ریکارڈ سپریم کورٹ کے پاس ہونے کے باعث وہ اپنابیان ریکارڈ نہ کراسکے تھے، جس پر عدالت نے انہیں آج طلب کیا تھا۔احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد واجد ضیا کو عدالت کے باہر صحافیوں نے گھیرے میں لیا اور ان سے آج کی سماعت سے متعلق سوالات کئے تاہم پاناما جے آئی ٹی سربراہ کسی بھی سوال کا جواب دئیے بغیر روانہ ہوگئے۔اس موقع پر سیکیورٹی عملے نے صحا فیوں کو دھکے بھی دئیے اور انہیں واجد ضیا کی گاڑی سے دور دھکیل دیا، اس سے قبل پاناما وزارت داخلہ نے احتساب عدالت میں حاضری کے پیش نظر واجد ضیا کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: