’عین ممکن ہے ریٹائرڈ روسی ایجنٹ کو روس نے زہر دیا ہو‘

13 Mar, 2018 بی بی سی اردو
برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سابق روسی جاسوس کو دیا گیا فوجی گریڈ کا اعصاب شکن مواد روس میں بنا ہے جبکہ امریکہ نے بھی اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کی تائید کی ہے اور نیٹو سے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
تھریسا
BBC

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سابق ایجنٹ کو دیا گیا فوجی گریڈ کا اعصاب شکن مواد روس میں بنا ہے جبکہ امریکہ نے بھی اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کی تائید کی ہے اور نیٹو سے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ ’عین ممکن‘ ہے کہ انگلینڈ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو روس میں تیار کردہ فوجی گریڈ کے اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی مواد دیا گیا ہو۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’عین ممکن‘ ہے کہ سیلسبری کے علاقے میں چار مارچ کو روس کے سابق ایجنٹاور ان کی بیٹی یولیا کو اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی ایجنٹ دینے کا ذمہ دار روس ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’روسی جاسوس کی بیٹی کو زہر نہیں دینا چاہیے تھا‘

برطانیہ کے ’روسی جاسوس‘ نامعلوم مواد سے زخمی

وزیراعظم نے کہا کہ ’یا تو یہ روس کا ہمارے ملک کے خلاف براہراست اقدام ہے یا پھر یہ خطرناک ایجنٹ روس کی حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا اور دوسروں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ لندن میں تعینات روسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا تاکہ وہ اس بارے میں وضاحت دیں۔

برطانوی وزیراعظم کے اس بیان کے بعد امریکہ برطانیہ کے اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ روسی ایجنٹ کو زہر دینے میں ممکنہ طور پر روس ملوث ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ امریکہ اپنے برطانوی اتحادی کی تائید کریا ہے کہ سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو مارنے کے لیے اعصاب شکن مواد استعمال کرنے میں ممکنہ طور پر روس ملوث ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی شرمناک ہے۔

روس
EPA/ Yulia Skripal/Facebook

ادھر نیٹو کے سیکریٹری جنرل جین سٹیولنبرگ نے کہا ہے کہ زہر کا استعمال ہولناک ہے اور یہ ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے پارلیمان کو مزید بتایا کہ روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر میں استعمال ہونے والے کیمیا کا تعلق اعصاب پر حملہ کرنے والے ایجنٹ سے ہے جس کو ’نوویچوک‘ کہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر خارجہ بورس جانسن نے روسی سفیر سے کہا کہ وہ فوری طور پر نوویچوک پروگرام کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کریں۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ مزید اقدام لینے سے قبل روسی سفیر کے جواب کا انتظار کریں گی۔ ’اگر قابل اعتبار جواب نہیں ملا تو برطانوی حکومت اس بات کو مانے گی کہ یہ طاقت کا غیر قانونی عمل روسی ریاست نے برطانیہ کے خلاف کیا ہے۔‘

63 سالہ ریٹائرڈ ملٹری انٹیلیجنس آفیسر سرجی اور ان کی 33 سالہ بیٹی کو سیلسبری کے سٹی سینٹر میں ایک بینچ پر نڈھال حالت میں پایا گیا۔ دونوں کی حالت نازک ہے۔

ان دونوں کی دیکھ بھال کرنے والے سارجنٹ نک بیلی بھی بیمار ہو گئے ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: