قومی اثاثوں کی بربادی، پی آئی اے بیرون ملک اپنا حق لینے سے بھی غافل

17 May, 2018 اب تک
قومی اثاثوں کی بربادی، پی آئی اے بیرون ملک اپنا حق لینے سے بھی غافلاسلام آباد: (17 مئی 2018) غیرملکی منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والی قومی ایئرلائن آج کوڑی کوڑی کی محتاج ہوگئی۔ پی آئی اے بیرون ملک اپنا حق لینے سے بھی غافل ۔ ابوظہبی میں اکتالیس برس پہلے کی گئی سرمایہ کاری کی رقم سے پی آئی اے تاحال محروم ہے۔باکمال سروس لاجواب لوگ یہ ہے قومی ایئرلائن کا نعرہ جو بے بسی اورحسرت ویاس کی تصویربنی ہوئی ہے۔پی آئی اے نے انیس سو ستترمیں شیخ ہمدان بن محمد بن النہیان کے ساتھ مل کرسینٹرہوٹل ابوظہبی میں سینتیس ملین درہم کی سرمایہ کاری کی تھی۔ معاہدے کے مطابق پی آئی اے کو انیس سو ستاسی تک ایک سوانچاس ملین درہم منافع دیا گیا تاہم انیس سو ستانوے میں ابوظہبی کے شیخ نے معاہدہ منسوخ کردیا۔ پی آئی اے معاملہ عدالت لے کرگئی اورطویل مقدمہ بازی کے بعد دوہزاردس میں یہ مقدمہ جیت گئی مگر چار سال گزرنے کے باوجود مسئلے کا کوئی حل نہ نکل سکا۔دوہزارچودہ میں میں یواے ای کورٹ نے گزشتہ فیصلہ منسوخ کردیا، حیران کن طورپر پی آئی اے آج تک اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرسکی۔ وفاقی حکومت نے پی آئی اے کوابوظہبی کے ساتھ عدالت سے باہرمعاملات طے کرنے کی اجازت دیدی ہے اورابوظہبی بھی اکیس ملین درہم ادا کرنے کوتیار ہے۔ پی آئی اے کوچارسال تک پچیس ملین درہم وصولی کیلئے کس نے اپیل کرنے سے روکے رکھا؟ یہ سوالیہ نشان ہے۔کرپشن اوراقرباپروری کے باعث پی آئی اے کاخسارہ تین سوچالیس ارب روپے جبکہ طیاروں کے انجنوں کی اوورہالنگ اوردیگراخراجات کیلئے بیس ارب روپے کے نئے قرضہ سے مجموعی قرضہ ایک سوپچانوے ارب روپے تک پہنچ گیاہے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: