عید الفطر 2018 کے نئے فیشن ٹرینڈز

12 Jun, 2018 ہماری ویب

24نیوز :رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہیں عید کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ چھوٹے بڑے ہر کوئی عید کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ مرد ، خواتین اور بچوں کو اپنے کپڑوں اور جوتوں کی فکر پڑ جاتی ہے اور نت نئے ڈیزائن کے کپڑے  اور جوتے بناتے ہیں۔

بچے ہوں یا بڑے سب ہی فیشن کو مد نظر رکھ کے خریداری کرتے ہیں، اگر بات کی جائے جدید فیشن کی تو بچے بڑوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور جدید فیشن کے کپڑے بناتے ہیں۔

بچوں کے ملبوسات

عید الفطر کا تہوار ہو اور بچے جدید فیشن سے پیچھے رہ جائیں ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ جہاں بات کی جاتی ہے جدید فیشن کی وہاں بچے سب سے آگے ہوتے ہیں۔جدید فیشن کے ساتھ ساتھ  پرانی روایات کو بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ کرتہ شلوار عید الفطر پر پہنا جانے والا روایتی پہناوا ہے۔

خواتین کے ملبوسات

اس سال عید ڈیزائنرز کی جانب سے ملبوسات کے نئے فیشن میں اضافہ کہ بجائے روایتی ملبوسات کو دوبارہ ترجیح دی گئی ہے۔ عید الفطر کے لیے پرانی روایت کے مطابق شارٹ شرٹس، کرتہ، شلوار قمیض، فراق، لمبائی والی قمیض، ٹروٗزرز، کافتان، پلازو سب کچھ ہی فیشن میں ان ہے۔خواتین نت نئے ڈیزائن کو فولو کرتی ہیں اور روایت کو بھی پیچھے نہیں چھوڑتیں۔

خواتین اور جیولری

ملبوسات کے ساتھ ساتھ جیولری میں بھی ہر قسم کے انداز کو پسند کیا جاتا ہے۔ کندن اورمیٹل  کی جیولری تک فیشن میں ان ہے۔ لباس سے ہم رنگ ٹسلز ایئر رنگز کانوں میں بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں اور خواتیں پسند کرتی ہیں۔

خواتیں اور جوتے

خراتیں نت نئے جوتی پسند کرتی ہیں۔ کھسوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، دکانداروں نے بھی عید کے لیے پشاوری، کوہاٹی چپلوں، پومپی اور کھسوں کے نت نئے ڈیزائن متعارف کرادیے ہیں۔ ہاتھ سے تیار کیے جانے والے کھسے اپنی مثال آپ ہیں، مضبوط اور پائیدار اور اب نت نئے ڈائزائنوں میں تیار کی جانے لگے ہیں۔

تحائف دینے کا  ٹرینڈ

 تحائف دینے کی روایت محبت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، ان تحائف کو دینے کے لئے دور حاضر میں خوبصورت ٹوکریوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو تحائف دینے اور لینے والے بہت پسند کرتے ہیں۔حدیث مبارکہ ہے کہ ایک دوسرے کو تحفے دو اس سے آپس میں محبت بڑھے گی۔ تحائف دینے کے ساتھ تحائف دینے کا سلیقہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں ڈبوں کی خوبصورت پیکنگ اور خوبصورت لفافوں میں تحائف دینے کا طریقہ دور حاضر میں خوبصورت ٹوکریوں کی صورت میں بدل گیا ہے۔

مہندی لگانے کا  ٹرینڈ

خواتین کے لئے کوئی بھی تہوار مہندی کے بغیر ادھورا ہوتا ہے ، جب تک ہاتھوں پر لگی خوبصورت مہندی ہاتھوں کی دلکشی میں اضافہ نہ کرے تہوار کا رنگ پھیکا پھیکا معلوم ہوتا ہے۔مہندی کا لگانا ایک  فن چکا ہے۔ مہندی کا تعلق ہمارے معاشرے کے رسم ورواج سے جڑ چکا ہے، اس فن کی ماہر خواتین ہتھیلی  اور بازو پر  نہایت نفاست سے بڑے نفیس اور دیدہ زیب نقش و نگار بناتی ہیں ۔عورتوں کو تو اچھا لگتا ہی ہے، وہیں ان کے مجازی خدا یعنی کہ ان کے خاوند بھی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

مرد حضرات کے ملبوسات

فیشن کے نت نئے انداز صرف خواتین کے لیے ہی نہیں رہے بلکہ مرد حضرات کے لیے بھی منفرد فیشن کے انداز متعارف ہیں۔ عید پر مرد حضرات کے کرتوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور مرد سادا کرتوں جے ساتھ فینسی ویسکوٹ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

   بنارسی کپڑے سے بنی ویسکوٹ زیادہ استعمال کی جاتی ہیں

 

 

 


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: