افغان طالبان کا عید پیغام،امریکا کو پھر براہ راست مذاکرات کی پیشکش

13 Jun, 2018 ڈان نیوز
کابل: طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اپنے عید پیغام میں ایک مرتبہ پھر امریکا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حکام پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنا ہوگی۔افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز کی کے مطابق طالبان امیر نے عید پیغام میں کہا کہ ان کے گروپ کی جنگ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی بحالی کا واحد راستہ امریکی اور دوسری قابض فورسز کی واپسی ہے تاکہ یہاں آزاد اور اسلامی افغان حکومت ملک کو سنبھال سکے۔ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کا کہنا تھا کہ گروپ کی جانب سے سمجھوتے اور مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں اور اس سلسلے میں اسلامی امارات کے سیاسی دفتر کو خصوصی طور پر مقرر کیا گیا ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر امریکا کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر امریکی حکام پر امن حل پر یقین رکھتے ہین تو انہیں کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔خیال رہے کہ اس سے قبل افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ عارضی طور پر جنگ بندی کے اعلان پر امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہطالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈپٹی اسسٹنٹ اور قومی سلامتی کونسل میں سینئر ڈائریکٹر برائے وسطی ایشیا لیسا کرٹس کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکا افغان حکام کی طرف سے کام نہیں کرے گا لیکن وہ اس مذاکرات کا حصہ بننا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ’ امریکا اس مذاکرات میں حصہ لینے کو تیار ہے لیکن ہم افغان حکومت اور افغان شہریوں کے متبادل کے طور پر پیش نہیں ہوسکتے لیکن ایک سیاسی حل ایک عمل کے ذریعے کیا جانا چاہیے افغان قیادت اور افغان ملکیت ہے’۔یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا ، اس سلسلے میں افغانستان کے علما نے موجودہ جنگ اور ملک میں جاری بدامنی کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔اشرف غنی کے اعلان کو افغانستان کے بڑے اتحادیوں کی جانب سے گرم جوشی سے خوش آمدید کیا گیا تھا جبکہ اس کے جواب میں طالبان نے 17 سال میں پہلی متربہ عید الفطر کے پیش نظر 3 دن تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں غیر ملکی افواج شامل نہیں تھیں۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: