سعودی اتحادی افواج کا یمن میں حدیدہ بندرگاہ پر حملہ

13 Jun, 2018 بی بی سی اردو
سعودی عرب کی اتحادی افواج نے یمن میں انسانی بنیادوں پر فراہم کیے جانے والے سامان کے داخلے کا اہم مرکز سمجھی جانے والی بندرگاہ حدیدہ پر حملہ کر دیا ہے۔
سعودی افواج
EPA
سعودی عرب کی قیادت والی افواج حدیدہ کے باہر کسی بھی حملے کے لیے تعینات ہیں

سعودی عرب کی اتحادی افواج اور یمن کی سرکاری فوج نے اقوام متحدہ کی وارنگز کو نظر انداز کرتے ہوئے یمن کی اہم ترین بندر گاہ حدیدہ پر یلغارکر دی ہے۔

حدیدہ کی بندرگاہ قحطکے خطرے سے دوچار اس ملک کی سترہ فیصد درآمدات کا ذریعہ ہے اور اس بندر گاہ پر حملے کے بارے میں اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کےنتیجے میں قیامت خیز تباہی ہو سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ حوثی باغیوں کی جانب سے انخلا کے لیے دی جانے والی حتمی ڈیڈلائن کو نظرانداز کیے جانے کے بعد کیا گيا ہے۔

سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں کا الزام ہے کہ حوثی باغی اس بندر گاہ کے ذریعے ایرانی ہتھیار حاصل کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو فضا اور سمندر دونوں جانب سے بموں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور شہر کے مضافات میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

امدادی ایجنسیوں نے شہر پر حملہ کیے جانے کی صورت میں قیامت خیز تباہی کے لیے خبردار کیا ہے جس میں ڈھائی لاکھ جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔سعودی عرب کی اتحادی افواج اور یمن کی سرکاری فوج نے اقوام متحدہ کی وارنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے یمن کی اہم ترین بندر گاہ حدیدہ پر یلغارکر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی اتحاد کی ناکہ بندی،’یمن کو بدترین قحط کا سامنا‘

سعودی دارالحکومت پر حوثی باغیوں کا میزائل حملہ ’ناکام‘

اس جنگ زدہ ملک میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔

سعودی نیوز نیٹ ورک 'العربیہ' نے خبر دی ہے کہ حدیدہ کو 'آزاد کروانے' کا کام شروع ہو چکا ہے جس میں وسیع پیمانے پر کیے جانے والے زمینی حملے کو فضائیہ اور بحریہ کا تعاون اور پشت پناہی حاصل ہے۔

صدر منصور ہادی کی یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ باغیوں کو پسپا کرنے کے تمام سیاسی ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب کی سربراہی میں منصور ہادی کی حمایت کرنے والی اتحادی فوج میں شامل متحدہ عرب امارات نے اس سے قبل حوثی باغیوں کو انخلا کے لیے حتمی الٹی میٹم دیا تھا کہ یا تو وہ واپس ہو جائیں یا پھر حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

نقشہ
BBC

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ انور قرقاش نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے قبل 48 گھنٹوں کی سابقہ ڈیڈلائن کے ختم ہونے کے بعد سفارتی کوششیں کرتے کرتے اتحادیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اتحادی چاہتے تھے کہ بندرگاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ سنبھالے لیکن اگر حوثی انخلا سے انکار کرتے ہیں تو اس صورت میں وہ فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار تھے۔

یمن کی خانہ جنگی میں گذشتہ تین برسوں میں دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جسے اقوام متحدہ نے دنیا کی 'خراب ترین انسانی تباہی' کہا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں کئی ممالک کی فوج نے مارچ سنہ 2015 میں یمن کے تنازعے میں اس وقت مداخلت کی جب صدر ہادی کی وفادار فورسز حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار تھیں۔

خیال رہے کہ حوثی یمن کی زیدی شیعہ مسلم اقلیت ہیں۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: