پرویز مشرف کا سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ

14 Jun, 2018 اب تک
پرویز مشرف کا سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا فیصلہاسلام آباد: (13 جون 2018) سابق صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف نے کل 14 جون کو سپریم کورٹ پاکستان میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہ میں خصوصی عدالت قائماس سے قبل پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی کی سربراہی میں خصوصی عدالت قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کیلئے خصوصی عدالت کا بنچ تشکیل دے دیا گیا۔ دو رکنی بینچ میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اکبر شامل ہیں، جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی بنچ کے سربراہ ہوں گے۔وزارت قانون و انصاف نے خصوصی عدالت کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ جبکہ خصوصی عدالت کی منظوری صدرمملکت ممنون حسین نے دی ہے۔مشرف کو وطن واپسی کیلئے کل دو پہر 2 بجے تک کی مہلتاس سے قبل سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو وطن واپسی کیلئے کل دوپہر دو بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ وہ کل عدالت میں حاضر ہوجائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کردیں گے۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے پرویز مشرف کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ سابق صدر کے پاس کل دو بجے تک کاوقت ہے آجائیں ،ورنہ درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کردیں گے ۔ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےاس موقع پر وکیل پرویز مشرف کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور سپریم کورٹ کو بتایا کہ سابق صدر بیمار ہیں،علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی سہولت برقرار رکھیں ،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شرائط کی بجائے پہلے پاکستان آجائیں ۔وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ ان کو رعشہ کی بیماری ہو چکی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر انہیں رعشہ ہے تو الیکشن میں مکا کیسے دکھائیں گے ،بیمار ہیں تو ایمبولینس میں آجائیں پہلے آئیں پھر دیکھیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مشرف کمانڈو ہونے کے باوجود خوف کھا رہا ہے ملک پر قبضہ کیا لیکن خوف نہیں کھایا،چیف جسٹس نے کہا کہ ملک واپس آئیں ورنہ کاغذات نامزدگی کی جانچ نہیں ہونے دیں گے ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنی سہولت دی کہ آجائیں گرفتار نہیں کیا جائے گا،وکیل مشرف نے کہاکہ علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت بھی بررقراررکھیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے واپس آئیں پھربورڈ بنا کر دیکھیں گے،سیاستدانوں کی طرح کہناشروع کردیا کہ آنا چاہتا ہوں۔واضح رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اصغر خان کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے پرویز مشرف کے راہ کی تمام رکاوٹیں دورکردیں، سابق صدر آئیں اور اپنی طاقت دکھائیں، دیکھتے ہیں انکی بہادری کہ وہ آتے ہیں یا نہیں۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےیاد رہے کہ گیارہ جون کو سابق صدر پرویز مشرف نے این اے  247 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی پیر زبیر احمد نے جمع کرائے ہیں۔ اس نشست پر ڈاکٹر فاروق ستار، عارف علوی، مصطفیٰ کمال، عزیز میمن اور دیگر امیدوار موجود ہیں۔پرویز مشرف کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بحال کرنے کا حکماس سے قبل سپریم کورٹ نے چیئرمین نادرا کو سابق صدر پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے لاہور رجسٹری میں مفاد عامہ سے متعلق مختلف کیسز کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین کو عدالت میں دیکھ کر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ یہاں کس سلسلے میں موجود ہیں؟ جس پر چیئرمین نادرا نے اپنی عدالت آمد کی وجہ بتائی۔اس موقع پر چیئرمین نادرا نے بتایا کہ ہم نے مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کررکھا ہے ،مشرف کی واپسی کارڈ کے بلاک ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مشرف کو واپسی کیلئے تحفظ دیا تھا ،ائیرپورٹ سے عدالت تک سابق صدر کو گرفتار نہ کیا جائے ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مشرف واپس آئیں اورمقدمات کا سامنا کریں، بعد ازاں عدالت نے سابق صدر کے بلاک شناختی کارڈاور پاسپورٹ کو بحال کرنے کا حکم دیا۔ اور پرویزمشرف کے ٹرائل کیلئے دو روزمیں ٹربیونل قائم کرنے کاحکم بھی دےدیا۔واضح رہے کہ سات جون کو سپریم کورٹ نے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو تیرہ جون کو لاہور طلب کرتے ہوئے وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےجسٹس ثاقب نثار نے پرویز مشرف کو لاہور رجسٹری طلب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف میرے سامنے پیش ہوجائیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائےگا، ہم حکم دے دیں گے انہیں عدالت پہنچنے تک گرفتار نہ کیا جائے،پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ مؤکل کے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا معاملہ ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نےسادہ حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف لاہور میں تشریف لے آئیں،اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نےسادہ حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف لاہور میں تشریف لے آئیں۔واضح رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف ملک میں سنگین غداری کا مقدمہ بھی چل رہا ہے جس میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہے۔گزشتہ دنوں آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا تھا کہ پرویز مشرف نے عید الفطر کے بعد پاکستان واپسی کا فیصلہ کرلیا تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نااہلی کیخلاف اپیل میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہو گا، پرویز مشرف آئندہ انتخابات میں چار حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے،اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ خلاف آیا تب بھی پرویز مشرف پاکستان آئیں گے۔دوسری جانب سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ عدالت نے کافی مبہم فیصلہ دیا ہے جس سے وہ کنفیوژن کا شکار ہوگئے ہیں، وہ پاکستان جانے کیلئے بہت الجھن کا شکار ہیں۔ زندگی میں وہ کبھی الجھن کا شکار نہیں ہوئے۔دبئی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش ہونے کے فوری بعد ان کے بارے میں عدالت نے فیصلہ نہیں دیا جبکہ خواجہ آصف کے بارے میں واضح فیصلہ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود کو تنہا محسوس کررہے ہیں۔ پارٹی ورکرز حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔ پرویز مشرف نے مطالبہ کیا کہ انہیں گرفتار نہ کرنے کی ضمانت دی جائے۔ تمام مقدمات میں ضمانت دی جائے اور چھبیس جولائی سے پہلے فیصلہ سنایا جائے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں

Comments & Reviews

پرویز مشرف کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے فوج نے مشرف کی دفاع سے انکار کیا پرویزمشرف کے بیرون ملک چند حساس معاملات پر فوج مشرف سے خوش نہیں ھے اس وجہ سے سابق کمانڈو ڈر ریا ھے پہلے انکی نگران دور میں انے کا پروگرام تھا لیکن موجودہ بدلتی صورت حال میں انکی واپسی مشکل ھوگی
Israr Muhammad Khan, Swabi Jun 13, 2018

Post Your Comments
Select Language: