بریکنگ نیوز نواز شریف کا پاکستان واپس آنے کا فیصلہ موخر۔۔؟؟ اچانک حیران کن خبر آگئی

11 Jul, 2018 روزنامہ اوصاف
لندن (نیوزڈیسک) لندن میں مقیم مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ مؤخر کرنے اور الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور ورکرز نے بھی پارٹی قائد نواز شریف کے وطن واپس آنے یا نہ آنے کی صورت میں مختلف آپشنز پر غورکرنا شروع کر دیا ۔پارٹی ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی بیماری یا دیگر وجوہات کے باعث نواز شریف پاکستان نہ آئے تو ن لیگ انتخابات کا بائیکاٹ کر سکتی ہے ۔ گذشتہ روز لندن اور پاکستان میں سینئر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت میں طے پایا ہے کہ جس قسم کی فضا مسلم لیگ ن کے خلاف بنائی جا رہی ہے اس صورتحال میں نواز شریف 13 جولائی کو واپس آنے کا شیڈول مؤخر کرسکتے ہیں اور اگر نواز شریف نے 13 جولائی کو وطن واپس نہیں آتے اور اگر وطن واپسی کا منصوبہ مؤخر کر دیا جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ مسلم لیگ ن عام انتخابات کے بائیکاٹ کا آپشن استعمال کرے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن کے لیے انتخابی فضا ناسازگار ہے اور نواز شریف کسی ڈیل کے تحت خود کو جیل سے بچا بھی نہیں سکتے، ایسی صورت میں وطن واپسی مؤخرکرنے کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔لندن میں مقیم قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کو اس بات سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ان کی واپسی پر پارٹی کارکنوں کو استقبال میں بے حد مشکلات کا سامنا ہے ، کارکنوں کی بڑی تعداد کا لاہور ائیر پورٹ پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔دوسری جانب نیب حکام نے نواز شریف کو لاہور سے راولپنڈی اڈیالہ جیل منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر کی سہولت لے رکھی ہے جس کی وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز کی لاہور ائیرپورٹ آمد پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو ان تک رسائی ملنا مشکل ہے۔ ائیرپورٹ پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے نیب نے اپنی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔واضح رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے 13 جولائی کو وطن واپس آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے کے لیے ابتدائی حکمت عملی بھی تیار کرلی ہے۔ نیب لاہور کی 2 ٹیمیں اسلام آباد ائیر پورٹ جبکہ 2 ٹیمیں لاہور ایئرپورٹ پر تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ --> ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی ایک ٹیم میں 6 سے 7 نیب کے اہلکار ہوں گے جبکہ پولیس کی مدد الگ ہوگی، نیب ٹیم میں ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر عہدے کے افسران سمیت نیب آئی اینڈ ایس کے اہلکار بھی شامل کیے جائیں گے۔لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔۔وزارت داخلہ نے نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری اور اسلام آباد منتقلی کے لیے نیب کو ہیلی کاپٹر دینے کی منظوری دے دی ہے۔ دونوں مجرموں کو امگریشن حکام گرفتار کر کے نیب حکام کے حوالے کریں گے جس کے بعد لاہور ائیرپورٹ سے ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا، ائیرپورٹ کی سکیورٹی کہ ذمہ داری نگران صوبائی حکومت کے پاس ہوگی، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے اور سکیورٹی کے پیش نظر بکتر بند گاڑی کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: