ایف آئی اے الیکشن تک آصف زرداری اور فریال تالپور کو نہ بلائے، چیف جسٹس

12 Jul, 2018 اب تک
ایف آئی اے الیکشن تک آصف زرداری اور فریال تالپور کو نہ بلائے، چیف جسٹساسلام آباد: (12 جولائی 2018) جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا؟دونوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم ہم نے تو نہیں دیا تھا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاﺅنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی،سابق صدر آصف علی زرداری کے وکلا فاروق ایچ نائیک، سردار لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نجی بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو بھی سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ویڈیودیکھنے کیلئے پلے کابٹن دبائیںچیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے ہمارا اختیارسماعت کیا ہے، ہرشخص کو اپنا وقار اور حرمت ہے،کسی کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ ہمارا پہلے والا آرڈرپڑھ کر سنایاجائے ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آصف زرداری،فریال تالپورکانام ای سی ایل میں ڈالنے کانہیں کہا، کیاآصف زرداری اورفریال تالپورکیس میں ملزم ہیں؟جوعدالت کاحکم ہی نہیں تھااس پرشورمچاہواہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے صرف ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کاکہا ہے،آصف زرداری اور فریال تالوپر کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا،دونوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم ہم نے تو نہیں دیا تھا۔دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایت کی کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو الیکشن تک نہ بلایا جائے،الیکشن کے بعد کسی کیلئے کوئی استثنیٰ نہیں ملے گا۔جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ ایف آئی اے جو تحقیقات کرے، وہ شفاف ہو اور اگر کرپشن ہوئی ہے، تو سامنے آنی چاہیے،ساتھ ہی انہوں نے فاروق ایچ نائیک کو اس کیس کے متعلق جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمیں اپنی لیڈرشپ کا اعتبار بحال کرنا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ کیس کو الیکشن کے بعد رکھ لیں گے تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو،ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیئے کہ بطور اعلیٰ عدلیہ ایف آئی اے کو کہیں گے کہ کسی سے تعصب نہ کرے،اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت چھ اگست تک کے لیے ملتوی کردی۔گذشتہ روزمنی لانڈرنگ الزامات میں سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ نے ایف آئی اے کو اپنے بیانات جمع کرادئیے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے آج بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا، تاہم سینئر وکلا کی جانب سے سابق صدر کو آج پیش نہ ہونے کے مشورے کے بعد ان کی قانونی ٹیم ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئی۔ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیںذرائع کے مطابق سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کے دو جونئیر وکیل ایف آئی اے اسٹیٹ بینک کرائم سرکل میں پیش ہوئے اور آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے تحریری بیان جمع کرایا۔  وکلا نے جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری اورفریال تالپورالیکشن مہم میں مصروف ہیں اس لئے حاضرنہیں ہوسکتے،سابق صدر کے وکلا نے ایف آئی اے سے استدعا ہے کہ الیکشن کے بعد کا وقت دیا جائے، دونوں رہنما الیکشن کے بعد پہلے ہفتے ایف آئی اے میں پیش ہوجائیں گےمنی لانڈرنگ کیس میں طلبی کے معاملے پر آصف زرداری نے فاروق ایچ نائیک، لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن اور نیئر بخاری سے مشاورت کی، تاہم سینئر وکلاء نے آصف زرداری کو پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا، جس کے بعد ان کی قانونی ٹیم ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئی۔دوسری جانب ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور ذاتی حیثیت میں نہ بھی آئیں تو اعتراض نہیں، دونوں کے جوابات کا جائزہ لیا جائے گا، جو اطمینان بخش نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق کاغذات پر اب تک 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ثابت ہوئی ہے، اگر آصف زرداری اور فریال تالپور بیان ریکارڈ نہیں کراتے تو دوبارہ نوٹس جاری کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق دونوں سے پیسوں کی منی ٹریل اور انکم ٹیکس ریٹرنز پوچھے جائیں گے۔یاد رہے کہ سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جاچکا ہے جس کے بعد دونوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی ہے۔گذشتہ روز سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے مختلف بینکوں میں جعلی اکاؤنٹس رکھنے والی 8 شخصیات کو طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جعلی اکاؤنٹس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن عدالت میں پیشبشیر میمن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2010ء میں شروع کی گئی انکوائری کے مطابق اب تک سات لوگوں سے متعلق 29 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے 16 اکاؤنٹس سمٹ بینک، 8 سلک بینک اور 5 اکاؤنٹس یونائیٹڈ بینک میں تھے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اکاؤنٹس سے 35 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کی گئیں، جن میں سے سات کروڑ روپے انصاری شوگر مل اومنی کو 50 لاکھ، پاک ایتھانول ڈیڑھ کروڑ، چمبڑ شوگر 20 کروڑ، ایگرو فارم کو 57 لاکھ روپے، جبکہ زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ڈیڑھ کروڑ روپے منتقل کیے گئے۔بشیر میمن نے بتایاکہ سمٹ بینک کے حسین لوائی اور طحٰہ رضا کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے کہا کہ جن لوگوں سے آپ لڑنا چاہ رہے ہیں وہ آپ کے قابو میں نہیں آئیں گے۔ آپ کو سپریم کورٹ کی مدد درکار ہوگی۔ وائٹ کالر کرائم کو پکڑ لیا تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائیں جس میں فنانشل ماہرین بھی ہوں۔عدالت نے وزارت داخلہ کو اکاؤنٹس ہولڈرز اور اسکینڈل میں ملوث لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے اور سمٹ بینک کے اسٹیٹ بینک میں 7 ارب زرضمانت منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سمٹ بینک، یوبی ایل اور سندھ بینک کے سی ای اوز کو طلب اور 29 جعلی اکاؤنٹس رکھنے والے 8 افراد کو نوٹسس جاری کر دیئے۔عدالت نے آئی جی پولیس سندھ کو طلب کیے گئے تمام افراد کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 12 جولائی تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ سات جولائی کو کراچی کی مقامی عدالت نے گزشتہ روز گرفتار کئے جانے والے معروف بینکر حسین لوائی اور محمد طحہٰ کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے سات ارب کی منی لاڈرنگ کی،چار ارب ریکورکرلئے ہیں،ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ حسین لوائی نے طلحہٰ کے نام پراکاؤنٹ کھولا، حسین لوائی کےخلاف جعلی اور گمنامی اکاؤنٹس کی تحقیقات جاری ہیں اور حوالے سے مزید تفصیلات درکار ہیں، لہذا ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حسین لوائی بینک کے صدر ہیں، اکاؤنٹس آپریٹ کرناروٹین ہے، ان کے خلاف اسی کیس میں پہلی انکوائری تین سال پہلے بندہوگئی تھی، جبکہ ایف آئی اے پہلے بھی میرے موکل کا بیان لے چکا ہے، اس لیے مزید کسی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایف آئی اے کی استدعا منظور کرتے ملزمان کو گیارہ جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔سٹی کورٹ میں پیشی سے قبل میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے حسین لوائی نے کہا کہ جنہوں نے کرپشن کی وہ ملک سے باہر ہے اور الزام مجھ پر لگادیا گیا،حسین لوائی نے میڈیا کو بتایا کہ میں بلڈ پریشر اور دل کا مریض ہو، عدالت سے درخواست کروگا کہ مجھے میڈیکل ریلیف دیا جائے۔ایف آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ سمٹ اور سندھ بینک سمیت تین بینکوں میں انتیس جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے، یہ اکاؤنٹس انورمجید کے اومنی گروپ کے ملازمین استعمال کرتے تھے۔ صرف سمٹ بینک کے سولہ اکاؤنٹس کے ذریعے بیس ارب کا لین دین ہوا۔ اکاؤنٹس میں ملک ریاض کے داماد زین ملک، شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی نے بھی پیسے جمع کرائے۔ایف آئی اے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اکاؤنٹس کو بحریہ ٹاؤن، سمیت دوسرے پروجیکٹس سے ملنے والے کک بیکس لینے کے لئے استعمال کیا گیا، دوسری جانب آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید عدالت کی جانب سے متعدد بار بلائے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: