افغان حکومت اور طالبان جنگ بندی کرکے مذاکرات شروع کریں، مکہ اعلامیہ

13 Jul, 2018 اب تک
افغان حکومت اور طالبان جنگ بندی کرکے مذاکرات شروع کریں، مکہ اعلامیہجدہ:(12 جولائی 2018) سعودی عرب میں ہونے والی علما کانفرنس نے افغانستان میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت اور طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔سعودی شہزادہ خالد الفیصل کی زیر سربراہی جدہ میں علما کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر سے 200 سے زائد مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی جن میں پاکستان کے 12 علما بھی شامل تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر مکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کرکے امن مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجود فریقین جنگ بندی کرکے تشدد، اختلافات اور بغاوت کے خاتمے کیلئے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کریں۔ اختتامی خطاب میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سربراہ يوسف بن احمد العثيمين نے کہا کہ مکہ اعلامیہ مسئلہ افغانستان کا پر امن شرعی حل پیش کرتا ہے۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا کہ مکہ کانفرنس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔ دوسری جانب افغان طالبان نے کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی اسے مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے بارے میں بھی انتہائی سخت بیان جاری کیا۔طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی جنگ کوئی مقامی اندرونی تنازع نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک پر کفار کی جارحیت ہے جس کے خلاف طالبان کی مزاحمت جہاد فرض ہے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس جہاد کو فساد قرار دے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے دیں گے۔طالبان نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور علما سے یہ امید نہیں کہ وہ کفر اور اسلام کی جنگ میں امریکی حملہ آور کا ساتھ دیں گے، بلکہ وہ توقع کرتے ہیں اسلامی کانفرنس پہلے کی طرح ان کی جائز جدوجہد کی حمایت کرے گی۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: