پشاور میں پانچ سالہ بچی کی گمشدگی اور ہلاکت کے خلاف مظاہرہ

10 Aug, 2018 وائس آف امریکہ اردو
پشاور —خیبرپختونخوا کے دارلحکومت پشاور پریس کلب کے سامنے سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مردان میں پانچ سالہ حسینہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ گزشتہ روز مردان میں ایک دن پہلے لاپتا ہونے والی پانچ سالہ بچی کی لاش ملی تھی۔ پولیس تھانہ تخت بھائی کے مطابق نواحی گاؤں فتو کلی میں مفتی حبیب الرحمان کی پانچ سالہ بچی حسینہ کل شام گھر سے نکل کر غائب ہوگئی تھی جس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ تخت بھائی میں درج کی گئی تھی اور پولیس اوربچی کے ورثاء اسے تلاش کر رہے تھے۔ اگلے روز گھر سے کچھ فاصلے پر کھیتوں میں اس کی لاش پڑی ہوئی ملی۔ پولیس کے مطابق بچی کے ہاتھ پیر باندھنے گئے تھے اور اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لئے مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کرلی جہاں لاش سے سمپلز لے کر فارنزک لیب ارسال کردئیے گئے جبکہ تھانہ تخت بھائی میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ڈی پی او واحد محمود نے واقعے کاسراغ لگانے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس نے جائے وقوع کو محفوظ کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ مقتولہ بچی کا باپ عالم دین ہے اور گاؤں میں بچیوں کے دینی مدرسہ میں پڑھاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سماجی و فلاحی اہل کاروں نے پشاور پریس کلب کے سامنے جمع ہو کر حکومت سے بچوں کی تحفظ کے لئے مضبوط قوانین بنانے اور ان پر عمل درآمد کے حق میں نعرے لگائے۔ انہوں نے بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر بچوں کے حقوق اور حکومت سے مطالبے درج تھے۔ احتجاج میں شریک بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم "د حوا لور" کے رکن شوانا شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بنائے گئے چائلڈ یونٹ کو جلد از جلد فعال کیا جائے اور بچوں سے جنسی کے مجرمان کو حقیقی معنوں میں سزا دی جائے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: