روسی سرپرستی میں منعقدہ اجلاس میں طالبان، امریکہ کی پہلی بار شرکت پر رضامندی

09 Nov, 2018 وائس آف امریکہ اردو
اسلام آباد —روس کی جانب سے جمعے کے روز ماسکو میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پہلی بار امریکہ اور طالبان شریک ہوں گے، جس میں افغانستان میں امن اور قومی مفاہمت حاصل کرنے پر غور کیا جائے گا۔روس کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان، ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ 12 ممالک سے وفود شریک ہوں گے، جن میں امریکہ بھی شامل ہوگا، وہ ’’ماسکو میں ہونے والی مشاورت‘‘ میں حصہ لیں گے۔اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجلاس کا مقصد باہمی یا کثیر ملکی مکالمے کے لیے سازگار ماحول کی سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ بات چیت کے ذریعے جتنا جلد ممکن ہو افغان مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے۔گذشتہ سال امریکہ نے ماسکو میں ہونے والے پہلے اجلاس کی دعوت ٹھکرا دی تھی، جب کہ طالبان بھی اس سے دور رہے تھے۔امریکی محکمہٴ خارجہ کی ایک ترجمان نے بدھ کو اس بات کی تصدیق کی کہ افغان حکومت سے رابطہ رکھتے ہوئے، ماسکو میں امریکی سفارت خانہ ’’بات چیت میں شرکت کے لیے ایک نمائندہ بھیجے گا‘‘۔دیگر شرکا میں چین، پاکستان، ایران، بھارت، ازبکستان، قرغیزستان، تاجکستان، أفغانستان، قازقستان اور ترکمانستان شامل ہوں گے۔افغان حکومت نے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے اہل کاروں کو بھیجنے سے انکار کیا۔ لیکن، ملک کی اعلیٰ امن کونسل کے ایک وفد کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی ہے۔زخارووا نے ماسکو میں ہفتہ وار اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ’’روس اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ افغانستان میں سیاسی تصفئے کا کوئی متبادل نہیں، جس ضمن میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ افغانستان کے علاقائی پارٹنرز اس سمت میں سرگرم کردار ادا کر سکتے ہیں اور مربوط کوششیں کر سکتے ہیں۔‘‘قطر میں قائم طالبان کے ’’سیاسی دفتر‘‘ کا ایک پانچ رکنی وفد جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں شریک ہوگا۔ زخارووا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ طالبان کسی بین الاقوامی اجلاس میں پہلی بار شریک ہو رہے ہیں۔طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کے روز اس بات کو دہرایا کہ جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں افغان وفد کے ساتھ رابطے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: