سپریم کورٹ، اصغر خان کیس ختم کرنے کی سفارش مسترد

11 Jan, 2019 وائس آف امریکہ اردو
اسلام آباد — 

نوے کی دہائی میں پیسوں کے عوض سیاسی انجینئر نگ کے لحاظ سے اہم ’اصغر خان کیس ‘میں سپریم کورٹ نے عملدرآمد ختم کرنے کے لیے ایف آئی اے کی سفارش مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سیکرٹری دفاع آکر بتائیں تحقیقات میں کیا پیش رفت ہوئی، ہر ادارہ سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے۔

سپریم کورٹ میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے کہتا ہے کہ ان کے پاس شواہد نہیں تاہم عدالت نے تاحال کیس بند نہیں کیا۔ عدالت کا مقصد صرف 2 افسران کیخلاف تحقیقات نہیں۔ عدالت اصغر خان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے، اصغر خان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ معاملےکی مزید تحقیقات کرائیں گے۔اصغرخان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کیس میں گزرا،اصل تحقیقات کا وقت آیا تو رکاوٹیں آنے لگیں۔‘

درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں بتایا کہ جس فوجی افسر نے رقم تقسیم کرنا تسلیم کیا اس کا بیان نہیں لیا گیا، عدالت با ضابطہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے۔

اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ ایف آئی اے کا مینڈیٹ فوجداری تحقیقات کا تھا، ایف آئی اے نے 10 سیاستدانوں سے تحقیقات کرنا تھیں جس میں سے 6 سیاستدان انتقال کر چکے ہیں، بقیہ سیاسی رہنماؤں نے رقم وصول سے انکار کیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ کیس میں ملوث سابق بریگیڈئیر حامد سعید سے پوچھا گیا کہ پیسے کیسے دئیے مگر کچھ ثابت نہیں کیا، چالان کے لئے ضروری ہے کہ شواہد ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کم از کم اس کیس میں اصغر خان کیس فیملی سے بھی پوچھ لیتے، عدالتی فیصلے کے ایک، ایک صفحے سے ثابت ہوا کہ یہ اسکینڈل ہوا ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد اصغر خان کیس پر عملدرآمد ختم کرنے کے لیے ایف آئی اے کی سفارش مسترد کردی۔

اصغرخان کیس ہے کیا؟؟سن 1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دئیے گئےتھے۔ اصغر خان نے سپریم کورٹ کو درخواست دی جو بعدازاں پٹیشن میں تبدیل کر دی گئی ۔

یہ کیس اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا جب آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے حلف نامے میں آرمی چیف کے حکم پر انتخابات کے لئے اپوزیشن سیاست دانوں اور بعض صحافیوں کے درمیان 9 کروڑ روپے تقسیم کرنے کا اعتراف کیا۔

بیگم عابدہ حسین واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے پیسے لینے کا اعتراف کیا جبکہ نوازشریف و دیگر نے انکار کیا لیکن جنرل درانی آج بھی اپنے مؤقف اور حلف نامے پر قائم ہیں۔

اصغرخان کیس کاعدالتی فیصلہ کیا تھا؟سال 2012 میں سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا گیا تھا جسے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تحریر کیا تھانیز اس وقت کے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا۔ فیصلے میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید کی ڈائری بھی شامل تھی جس میں پیسے لینے والوں کا ذکر ہے۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ ایوان صدرمیں کوئی سیل ہے توفوری بند کیا جائے۔ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا۔ سال 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ انتخابات مقررہ وقت پر اور بلاخوف و خطر ہونے چاہئیں، تفصیلی فیصلے کے مطابق اسلم بیگ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔ ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا اس میں کوئی کردار نہ تھا۔

کس سیاست دان کو کتنی رقم ملی؟؟سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق حبیب بینک کے اُس وقت کے سربراہ یونس حبیب نے جنرل اسلم مرزا بیگ اور جنرل اسد درانی کے کہنے پر 14 کروڑ روپے قومی خزانے سے فراہم کیے جن میں سے چھ کروڑ سیاست دانوں میں تقسیم کیے گئے۔

فیصلے کے مطابق جن سیاست دانوں کو رقم فراہم کی گئی ان میں غلام مصطفی جتوئی کو 50 لاکھ ،سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی 50 لاکھ ،سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو 25 لاکھ ،عبدالحفیظ پیرزادہ 30 لاکھ ، پیر پگارا کو 20 لاکھ،ارباب غلام رحیم کو 2 لاکھ روپے،ہفت روزہ تکبیر کے چیف ایڈیٹر صلاح الدین 3 لاکھ ،یوسف ہارون 5 لاکھ روپے حاصل کرنے والوں میں شامل تھے۔

جن فوجی افسران اور اداروں کورقم ملی ان میں مرزا اسلم بیگ کی تنظیم فرینڈز تین کروڑ ،ایم آئی یونٹ پنجاب دو کروڑ ،ایم آئی یونٹ خیبر پختونخوا دو کروڑ، جی ایچ کیو چار کروڑ ،ایم آئی کوئٹہ آفس ایک کروڑ 50 لاکھ جبکہ بقیہ رقم سود سمیت جی ایچ کیو بھجوا دی گئی۔

حبیب بنک کے سابق سربراہ یونس حبیب نے خودجام صادق علی کو سات کروڑ، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو دو کروڑ روپے،جاوید ہاشمی کے علاوہ دیگر ارکان قومی اسمبلی کو پانچ کروڑ روپے اور میاں نواز شریف کو مختلف اوقات میں 60 لاکھ روپے دئیے گئے تھے۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: