اصغر خان کیس: فوجی افسران کے خلاف چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

11 Feb, 2019 بی بی سی اردو
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے میں حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں ملوث فوجی افسران کے خلاف چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ Getty Imagesایف آئی اے نے سنیچر نو فروری کو اصغر خان کیس کے حوالے سے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروائی تھی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے میں حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں ملوث فوجی افسران کے خلاف چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے پیر کو اسلام آباد میں اس معاملے کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کارروائی شروع کیوں نہیں ہوئی جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ تحقیقات میں شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے!

اصغر خان کیس کے فیصلے میں کیا ہے؟

’اصغر خان کیس آئین شکنی کا نہیں بدعنوانی کا مقدمہ ہے‘

اصغر خان کیس میں نواز شریف کو چھ دن کی مہلت

ان کا مزید کہنا تھا کہ فراڈ یا کرپشن پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔

جسٹس گلزار نے یہ سوال بھی کیا کہ اس کیس میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے، مگر ان کا نام سامنے کیوں نہیں آیا اور نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں اس کا ذکر ہے۔

اس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں الطاف حسین کا نام تھا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم اور چند دیگر ملزمان کی حوالگی کے لیے بات چیت جاری ہے اور بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے نے سنیچر نو فروری کو اصغر خان کیس کے حوالے سے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں عدالت سے مدد مانگتے ہوئے رہنمائی طلب کی گئی تھی۔

پیر کو عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ فوجی افسران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا اور پھر جائزہ لیں گے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کیا تھا

ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں اس کیس میں مزید شواہد کی چھان بین کے لیے سپریم کورٹ سے مددمانگتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے 'حقائق تلاش کرنے اور سچ کو سامنے لانے کی کوشش کی بہت کوشش کی ہے، لیکن بدقستمی سے تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا۔'

رپورٹ میں ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا تھا کہ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید سمیت تمام اہم گواہوں سے رابطہ کیا گیا ہے، بینک کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ بینک افسران کے بیان ریکارڈ کیے گئے، ٹی وی پروگرامز کا جائزہ لیا گیا اور سیاستدانوں کے بیان بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ جبکہ اہم ثبوتوں کے لیے وزارت دفاع سے بھی رابطہ کیا گیا۔

رپورٹ میں ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید نے رقوم تقسیم کرنے والے فوجی افسران کا نام ظاہر نہیں کیا، اور کسی افسر نے پیسوں کی تقسیم کا الزام قبول نہیں کیا۔

اس معاملے میں وزارت دفاع سے اہلکاروں کے متعلق کئی بار پوچھا گیا لیکن رقوم کی تقسیم میں ملوث حساس اداروں کے اہلکاروں سے متعلق نہیں بتایا گیا۔ اس لیے اس مقدمہ کے تحقیقات میں پیش رفت کے لیے عدالت رہنمائی کرے۔

AFPایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خاناصغر خان کیس کا پس منظر

1990 کی انتخابی مہم کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں میں پیسے تقسیم کیے گئے۔

خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنماؤں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔

پیسے لینے والوں میں غلام مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

اس معاملے پر ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، یہ کیس پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔

اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے۔

سپریم کورٹ نے رواں برس مئی میں وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: