طالبان کا قطر دفتر کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ

12 Feb, 2019 وائس آف امریکہ اردو

افغان طالبان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں قطر میں واقع ان کے سیاسی دفتر کو باضابطہ حیثیت دینے کا ان کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوجائے گا۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں قطر میں واقع طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ طالبان کے دفتر کو قانونی حیثیت دینے کے نتیجے میں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری مذاکراتی عمل میں تیزی لائی جاسکے گی۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفتر 2013ء سے کام کر رہا ہے لیکن اس دفتر کی کوئی قانونی یا سفارتی حیثیت نہیں ہے۔

افغان حکومت کے اعتراضات کی بنیاد پر قطر کی حکومت نے طالبان پر پابندی عائد کر رکھی ہے کہ وہ اس دفتر کو عوامی یا سرکاری رابطوں کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔

طالبان کی جانب سے قطر میں واقع اپنے دفتر کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے نئے دور سے قبل سامنے آیا ہے۔

فریقین کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 25 فروری سے دوحہ میں ہوگا۔ خلیل زاد اور طالبان نمائندوں کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر کی میزبانی قطر نے کی۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: