مسلمان دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں زیادہ مطمئن اور خوش، تحقیق

15 Apr, 2019 اب تک
مسلمان دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں زیادہ مطمئن اور خوش، تحقیقیہ تو ممکن نہیں کہ کسی انسان کی خوشی یا سکون کو ماپا جا سکے یا اس کے لیئے کوئی معیار مقرر کر سکیں لیکن جرمن سائیکولوجسٹ ڈاکٹر ایڈنگر شون نے اپنے طور پر یہ کوشش کی ہے کہ انسان کی پرسکون کیفیت کے لیئے پیمانہ مقرر کر سکیں۔ ان کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وحدانیت کا تصور سکون، اطیمنان اور خوشی کا باعث ہے اور تمام مذاہب میں مسلمان سب سے زیادہ مطمئن اور خوش ہیں۔سروے کے لیئے 67 ہزار افراد سے افراد سے معلومات حاصل کی گئیں جن کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا جس میں مسلمانوں کو وحدانیت کے تصور کے سبب سب سے زیادہ پرسکون اور مطمئن پایا گیا۔ایلی نوائے کے پروفیسر نے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے جس کو (سیٹیسفیکشن ودھ لائف اسکیل) زندگی سے کتنے مطمئن کہا جاتا ہے۔ اس میں پانچ سوال شامل ہیں جس سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی سے کتنا مطمئن ہے۔ ہر سوال کے ایک سے سات تک نمبر ہیں جتنے زیادہ نمبر ہوں گے اتنے ہی زیادہ آپ اپنی زندگی سے خوش ہوں گے۔جرمنی کی مین ہیم یونیورسٹی میں ریسرچرز نے 67 ہزار سے زائد افراد جس میں طالب علم شامل نہیں تھے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی وحدانیت کے تصور سے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے سکون میں کتنا فرق آتا ہے۔ تجربے سے یہ بات مشاہدے میں آئی کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اپنے وحدانیت کے تصور پر زیادہ مضبوط اور مطمئن تھے اور دوسرے مذاہب کے مقابلے میں سب سے زیادہ پرسکون اور خوش رہتے ہیں۔وحدانیت پر یقین رکھنے والوں میں عیسائی بھی شامل ہیں جو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے بعد دوسرے نمبر پر آتے ہیں اور اس کے بعد بدھ مت اور ہندو آتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ (ایتھسٹ) ملحد سب سے زیادہ غیر مطمئن پائے گئے۔ڈاکٹر ایڈنگر شون کا کہنا تھا وحدانیت کا تصور ہر مذہب میں جدا جدا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ سب سے اونچے درجے کا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے نظریہ توحید کے باعث ان کے انتہائی درجے کے یقین کے باعث ذہنی اور جسمانی حالت بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو علم نہیں کہ روحانیت کسی شخص کی زندگی پر کیا اثر ڈالتی ہے لیکن اس سے بہتر معاشیاتی رابطوں، بہتر قوت مدافعت، دوسروں کے لیئے بہتر ہمدردانہ جذبات اور ذہنی دباؤ (ڈپریشن) میں کمی واقع ہوتی ہے۔15.04.19 Edinger-Schons German University University of Mannheim

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں