ایرانی باکسر صدف کا ملک واپس نہ جانے کا فیصلہ

18 Apr, 2019 بی بی سی اردو
فرانس میں باکسنگ کا مقابلہ جیتنے والی صدف خادم نے کا کہنا ہے کہ ایران میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔ AFPصدف خادم کی تربیت سابق ایرانی نژاد ایرانی باکسر ماہیار مونسی پور نے کی ہے

ایک ایرانی باکسر جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کی جانب سے میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے کا کہنا ہے کہ وہ واپس گھر نہیں جائیں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

صدف خادم نے فرانسیسی باکسر اینی چاؤن کو سنیچر کو ہونے والے مقابلے میں شکست دی۔

اس ہفتے انھوں نے اپنے ایرانی نژاد فرانسیسی ٹرینر کے ہمراہ تہران جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

کھیلوں سے متعلق ایک اخبار نے صدف کے حوالے سےلکھا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ انھوں نے ایران میں عورتوں کے لباس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایرانی حکام نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم باکسنگ فیڈریشن کے سربراہ کی جانب سے اس امکان کو مسترد کیا گیا ہے کہ صدف کی گھر واپسی پر انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے نے باکسنگ تنظیم کے سربراہ حسین سُوری کے حوالے سے لکھا کہ ان کے مطابق صدف ایران کی باکسنگ تنظیم کی رکن نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے باکسنگ فیڈریشن کی نظر میں ان کےا اقدامات ذاتی ہیں۔

مزید پڑھیے

ایران: نوجوان لڑکی کی گرفتاری پر ’رقص کرنا کوئی جرم نہیں‘ مہم

ایرانی خواتین: اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد

سنگساری کے بارے میں تحریر پر ایرانی مصنفہ کو چھ برس قید

مغربی فرانس کے دیہی علاقے رویان میں کھیلے جانے والے میچ میں صدف نے ایرانی جھنڈے میں موجود رنگوں کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ انھوں نے سبز شرٹ، سرخ شارٹس اور کمر کے گرد سفید پٹی باندھ رکھی تھی۔

ان کی عمر 24 برس ہے اور اور انھیں مقابلے کے لیے بیرون ملک جانا تھا۔ اگرچہ ایران میں کھیلوں سے متعلق ادارہ موجود ہے لیکن خواتین کے کھیل کے لیے اس کی شرائط کو پورا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جس میں یہ شامل ہے کہ مقابلے میں ریفری اور جج بھی عورت ہی ہو۔

Reutersسنیچر کو ہونے والے میچ میں صدف نے فرانسیسی باکسر کو شکست دی

مقابلہ جیتنے کے بعد صدف کو امید تھی کہ ملک میں واپسی پر ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ تاہم پیرس کے ہوائی اڈے ہر انھیں پتہ چلا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔

صدف خادم کی تربیت سابق ایرانی نژاد ایرانی باکسر ماہیار مونسی پور نے کی ہے اور وہ بھی ایران جانے کے لیے ان کے ہمراہ موجود تھے۔

فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں صدف نے کہا کہ ’میں ایک ایسا میچ کھیل رہی تھی جس کی قانونی طور پر اجازت دی گئی تھی لیکن میں نے ٹی شرٹ اور شارٹس پہن رکھی تھی جو پوری دنیا کی نظر میں تو ایک عام سی بات ہے لیکن میرے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

’میں نے حجاب نہیں لیا تھا اور میرا نگران کوچ ایک مرد تھا اس کی وجہ سے میں کچھ لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں۔‘

پیرس میں ایرانی سفارتخانے کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ صدف کو واپس لوٹنے پر گرفتار کر لیا جائے گا اور نہ ہی وہ ان کے ایران واپس نہ جانے کے فیصلے پر کچھ کہہ سکتے ہیں۔

خئال رہے کہ ایران کے قانون کے مطابق خواتین اور نو سال سے زیادہ عمر کی لڑکیاں اگر گھر سے باہر سکارف کے بغیر نکلیں تو انھیں دس دن سے دو ماہ کی قید کی سزا یا رقم بطورجرمانہ ادا کرنی ہو تی ہے۔

اسی طرح کھیل میں شامل خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بال، گردن، بازو اور ٹانگیں چھپائیں۔

رواں برس فروری میں انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کی امیچور باکسنگ گورننگ باڈی نے کھیل کے لیے لباس کے قوانین میں ردو بدل کیا تھا۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں