سوڈان کے انقلاب کو ہوا دیتے فن پارے، تصاویر میں

16 May, 2019 بی بی سی اردو
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے گرد جہاں لوگ عوامی حکومت کی واپسی کے لیے راتیں جاگ کر گزار رہے ہیں، وہیں دیواروں پر نئے نئے نقشِ و نگار یا وال پینٹنگز بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ AFP

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوجی ہیڈکوارٹر کے گرد جہاں لوگ عوامی حکومت کی واپسی کے لیے راتیں جاگ کر گزار رہے ہیں وہیں آس پاس کی دیواروں پر نئے نئے نقشِ و نگار یا وال پینٹنگز بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

چھ اپریل کو اس علاقے میں چہار سو سے سوڈانی باشندوں کی بھیڑ امڈ آئی اور اس کے پانچ دن بعد طویل عرصے سے حکومت کرنے والے رہنما عمر عبدالبشیر کو فوج نے برطرف کرکے حراست میں لے لیا۔ وہ 30 سال سے اقتدار میں تھے۔

BBC

خرطوم یونیورسٹی کے طالب علم موفق کہتے ہیں کہ جو پینٹنگ وہ دیوار پر بنا رہے ہیں وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ سوڈان کے عوام نے کس طرح خاموشی کی ان زنجیروں کو توڑا جنھوں نے انھیں طویل عرصے سے جکڑے ہوا تھا۔

BBC

بہت سے فن پاروں کا پیغام یہ ہے کہ گولیاں اور بم مسئلے کا حل نہیں اور مظاہرین اقتدار کی پرامن منتقلی چاہتے ہیں۔

BBC

دھرنے کی جگہ ایئرپورٹ کے احاطے اور بلو نیل کے درمیان ہے اور ان دنوں یہ مقام شہر کا دل بنا ہوا ہے۔ اس علاقے میں یونیورسٹی کا کیمپس بھی ہے۔

ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کے دروازے پر فن کا ایک مجموعہ نظر آتا ہے جس میں فاختہ کی پینٹنگ بنائی گئی ہے جو ابھی تک حاصل شدہ آزادی کی عکاس ہے۔

Getty Images

فی الحال اس سینٹر کے فنکار کینوس کے ایک رول پر کام کر رہے ہیں تاکہ تین کلومیٹر طویل فن کا ایک نمونہ تیار کر سکیں۔ وہ اسے دھرنے کی جگہ پر لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

BBC

قریب واقع ایک آرٹ کالج کے طالبعلم مغیرہ کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ پینٹنگ سوڈان اور اس مظاہرے میں شامل افراد کا تنوع ظاہر کرنے کے لیے بنائی ہے۔ سوڈان میں مختلف نسلی گروپ ہیں اور 100 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔

BBC

دھرنے کے علاقے میں یونیورسٹی کی ایک دیوار پر مندرجہ بالا نقشِ دیوار میں ایک شخص کو رباب تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوڈان کے مختلف گروپ اس آلہِ موسیقی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ ملک تبدیلی کے لیے متحد ہے۔

BBC

مندرجہ بالا فن کے نمونے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس انقلاب میں مرد و زن برابر کے شریک ہیں۔

Getty Images

یہاں ایک فنکار کو آلا صلاح کی پینٹنگ پر کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صلاح 22 سالہ طالبہ ہیں جو اس وقت مزاحمت کی علامت بنیں جب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ صدر بشیر کے خلاف نکلنے والے احتجاجی جلوس میں نعرے بلند کرتے اور جلوس کی قیادت کرتے نظر آئیں۔

BBC

دیواروں پر بنائی گئی بہت سی پینٹنگز سنہ 1956 میں سوڈان کی آزادی کے بعد پہلے پرچم کے نیلے، پیلے اور سبز رنگوں کر استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔

Getty ImagesBBC

سنہ 1970 میں فوجیوں نے پرانے پرچم کو ہٹا کر عالمِ عرب کا حالیہ پرچم اپنایا جس میں سرخ، سفید، سیاہ اور سبز رنگ شامل ہیں۔

BBC

مظاہرین میں ہیش ٹیگ Sudaxit# مقبول ہے جو سوڈان کی عرب شناخت کے بجائے افریقی شناخت پر زور دیتا ہے۔ اس دیوار پر لکھی تحریر میں لکھا ہے کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سوڈان عرب لیگ چھوڑ دے۔ ہم سیاہ فام کوشائٹ کے بیٹے ہیں۔‘ یہ قدیم کوشین حکومت کی جانب اشارہ ہے۔

وہ حلائبِ مثلث (سوڈان اور مصر کے درمیان متنازعہ علاقہ) کی واپسی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

BBC

مندرجہ بالا پینٹنگ میں ایسی طاقتوں کی جانب اشارہ ہے جو انقلاب کے خلاف ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کا خفیہ ہاتھ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فوج کی حمایت کر رہے ہیں۔

BBC

یہاں اسی فنکار کا ایک اور نقشِ دیوار ہے جس میں انقلاب کا ایک نعرہ لکھا ہے ’شہیدوں کے خون کی قیمت کیا ہے؟‘ صدر بشیر کی برطرفی سے قبل مظاہرین مسلسل یہی نعرہ لگاتے رہے ہیں۔

BBC

’آزادی، امن اور انصاف‘ ان نعروں میں سے ایک ہے جو لوگ بغاوت کے دوران لگاتے رہے ہیں۔

AFP

تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے والے اس مظاہرے میں بہت سے افراد حصہ لے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی فوجی بھی ان میں شامل ہیں جو خرطوم کی دیواروں پر پینٹ کر رہے ہیں۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں