گنیز بک میں شامل وزیرستان کے نو سالہ 'ہیلی کاپٹر سپن' ریکارڈ ہولڈر

17 May, 2019 بی بی سی اردو
جنگ کی وجہ سے جنوبی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے نو سالہ طالب علم رضوان محسود نے مارشل آرٹس کی ایک کیٹگری 'ہیلی کاپٹر سپن' میں انڈین کھلاڑی پربارکر ایڈی کا ریکارڈ توڑ کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہو گئے ہیں۔

عمر میں کم، لیکن صلاحیت میں بےمثال۔

کام ایسا جو بڑے بڑے بھی نہ کرسکے اور تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں کھیل کود کے مواقعوں کا کوئی وجود ہی نہیں، لیکن پھر بھی ایک باصلاحیت کھلاڑی ۔

جی ہاں! یہ کہانی ہے ایک ایسے بے گھر ہونے والے بچے کی جس نے مشکلات کے باوجود بھی مارشل آرٹ کے شعبے میں عالمی ریکارڈ بنا کر پاکستان کا نام روشن کیا اور ان کا نام اب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کرلیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے، چوتھی جماعت کے نو سالہ طالب علم رضوان محسود نے حال ہی میں یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

رضوان محسود نے 30 سکینڈ میں 46 مرتبہ ہیلی کاپٹر کی طرح گھوم کر یہ ریکارڈ بنایا۔

BBCرضوان کی پیدائش قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں ہوئی

انھوں نے مارشل آرٹ کی ایک کیٹگری 'ہیلی کاپٹر سپن' میں پربارکر ایڈی نامی انڈین کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

'ہیلی کاپٹر سپن' ایک ایسا طریقہ ہے جس میں کھلاڑی زمین پر بیٹھ کر ایک پاؤں سے گھومتا ہے اور جو کھلاڑی جتنی پھرتی سے یہ مظاہرہ کرتا ہے اس کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

رضوان محسود کی کہانی کیا ہے؟BBCڈیرہ اسماعیل خان میں انھیں گھر کے قریب مارشل آرٹس کا ایک کلب ملا جہاں داخلہ لے کر انھوں نے تربیت شروع کی

نو سالہ رضوان محسود کی پیدائش قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں ہوئی۔ تاہم قبائلی علاقوں میں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو رضوان محسود کے والدین اپنا علاقہ چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوگئے اور تب سے وہ یہاں کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔

رضوان محسود کا کہنا ہے کہ انھیں بچپن سے جمناسٹکس اور فائٹنگ کا شوق تھا۔

انھوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں انھیں گھر کے قریب مارشل آرٹس کا ایک کلب ملا جہاں داخلہ لے کر انھوں نے تربیت شروع کی۔

رضوان محسود نے کہا کہ ان کے استاد اور کوچ عرفان محسود نے ان کے ساتھ بہت محنت کی جسکی بدولت وہ عالمی ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

'میری خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں اور اس کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹ کا ایک اچھا کھلاڑی بھی بننا چاہتا ہوں تاکہ پاکستان اور اپنے علاقے وزیرستان کا نام روشن کرسکوں۔'

رضوان محسود پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم تھے لیکن عالمی ریکارڈ بنانے کے بعد کورکمانڈر پشاور کی طرف سے انھیں آرمی پبلک سکول میں داخل کرادیا گیا جہاں ان کی تعلیم فری ہے۔

رضوان کے استاد بھی عالمی ریکارڈ ہولڈر

رضوان محسود کے استاد اور کوچ عرفان محسود بھی مارشل آرٹ میں کئی عالمی ریکارڈز قائم کر چکے ہیں۔

*مارشل آرٹ کے ماہر پاکستانی کھلاڑی کا ایک اور عالمی ریکارڈ

*وزیرستان کے بے گھر طالب علم کا عالمی ریکارڈ

انھوں نے دو سال کے عرصے میں 22 مختلف عالمی ریکارڈز بنائے ہیں جنھیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز پہلے ہی منظور کرچکی ہے۔ ان میں بیشتر ریکارڈز 'پش اپس' میں بنائے ہیں۔

عرفان محسود نے ڈیرہ اسماعیل خان میں مارشل آرٹس کا ایک کلب بھی بنایا ہے جہاں تربیت حاصل کرنے والوں کی اکثریت وزیرستان سے بے گھر ہونے والے بچوں کی ہے۔

عرفان خود بھی کئی سال پہلے جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوئے تھے۔

BBCعرفان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مارشل آرٹس کلب بھی بنایا ہے

عرفان محسود کا کہنا ہے کہ ان کے کلب میں 50 کے قریب باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں لیکن 'ہیلی کاپٹر سپن' میں انھیں رضوان محسود سب سے زیادہ صلاحیت نظر آئی لہذا انھیں اس سلسلے میں خصوصی تربیت دی گئی۔

عرفان نے کہا کہ ان کے کلب میں تقریباً تمام طلبا جنگ زدہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو تربیت دینے کا مقصد ہی یہی ہے کہ انھیں کھیل کے میدان کی طرف مائل کیا جائے۔

'میں نے اپنی مدد آپ کے تحت مارشل آرٹ کا کلب قائم کیا ہے جس میں کسی حکومتی یا کسی اور ادارے نے کبھی کوئی مالی معاونت نہیں کی۔ چونکہ یہ کھیل میرا شوق ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ باصلاحیت نوجوان فضول سرگرمیوں کے بجائے کھیل کود میں دلچپسی لیں۔'

انھوں نے کہا کہ مسلسل محنت کے بعد ان کی کوششیں اب رنگ لا رہی ہے اور اب بعض حکومتی اداروں نے انھیں مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرفان محسود کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ جنوبی وزیرستان میں بھی مارشل آرٹ کے تربیتی مراکز قائم ہوں لیکن اس مقصد کےلیے انہیں لازمی طورپر حکومت کی معاونت درکار ہوگی۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں