روبوٹ مکمل طور پر انسان کا متبادل نہیں ہوسکتا: ایمازون

11 Jun, 2019 روزنامہ جناح

ان کا کہنا ہے کہ انسان اور مشین کو ایک ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ضرروت دونوں ہی کی ہوگی۔ہمارے سامنے یہ چیلنج موجود ہے کہ ہم کتنے بہتر طریقے سے اپنی مشینیں بنائیں کہ وہ انسانی قابلیت تک پہنچ سکیں۔

ایمازون ویئر ہاوس میں روبوٹس بھاری بھر کم سامان اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔فوٹو کریڈٹ : مشین ڈیزائن ڈاٹ کامانھوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اسے صرف وہم ہی کہا جاسکتا ہے کہ  روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسان کے متبادل بن جائیں گے۔

بریڈے نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹ مکمل طور پر انسان کی جگہ نہیں لے سکتے، بس کرنا یہ ہے کہ انسان اور مشین کا تعلق ایک نئی شکل اختیار کر لے گا، اس کے لیے انسانی قابلیت کو بھی بڑھانا پڑے گا اور پھر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جن کے بارے میں پانچ سال قبل تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ایمازون پر پہلے ہی اپنے ملازمین سے غیر انسانی سلوک کے کئی الزامات لگائے جا چکے ہیں، اسی دباؤ کے نتیجے میں رواں سال کے آغاز ہی میں ایمازون نے اپنے ملازمین کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کیا تھا۔

ایمازون کے مطابق مشین اور انسان کا باہمی تعلق ہی مستقبل ہے۔ فوٹو کریڈٹ : مشین ڈیزائن ڈاٹ کام

ایمازون میں پیگاسس نامی روبوٹ ایک نیا اضافہ ہے، یہ روبوٹ پیکج بنانے سے پہلے سامان کی چھانٹی کرتا ہے اور یہ کام وہ انسانوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ  تیزی کرتا ہے۔

کمپنی کے مطابق ویئر ہاؤس میں ایک وقت میں 800 کے قریب روبوٹ حرکت میں ہوتے ہیں انھیں ‘فلو کنٹرول اسپیشلسٹ’ اپنے قابو میں رکھتا ہے جو ایک انسان ہے۔

اس کے علاوہ روبوٹ مختلف اشکال کی اشیاء میں فرق محسوس کرنے سے قاصر ہیں اور ایمازون کے فوڈ بزنس میں اس کے لیے انسانی مدد ہی درکار ہے۔

بریڈی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ‘انسان بمقابلہ مشین’ بالکل بھی نہیں بلکہ یہ انسانوں اور مشینوں کا ایک ساتھ کام کرنا ہے تاکہ ہدف پورا کیا جا سکے۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں