ہانگ کانگ میں احتجاج جاری، متنازع بِل پر غور ملتوی

12 Jun, 2019 وائس آف امریکہ اردو

چین کے نیم خودمختار علاقے ہانگ کانگ کی حکومت نے اس متنازع مسودۂ قانون پر بحث ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے خلاف علاقے میں شدید عوامی احتجاج جاری ہے۔

ہانگ کانگ کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بِل پر بحث کے لیے بدھ کی صبح ہونے والا ہانگ کانگ کی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

بِل کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے اتوار سے ہانگ کانگ کی حکومت کے مرکزی دفاتر اور اسمبلی کی عمارت کے باہر دھرنا دے رکھا ہے جس کے باعث دفاتر تک جانے والے راستے بند ہیں۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق ہانگ کانگ کے مرکزی علاقے وان چائی میں موجود مظاہرین کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے احتجاج میں شرکت کے لیے اپنے تعلیمی اداروں اور دفاتر سے چھٹی کی ہے۔

وان چائی ہانگ کانگ کا مرکزی کاروباری علاقہ بھی ہے جہاں گزشتہ تین روز سے جاری احتجاج کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

مجوزہ بِل کے خلاف ہانگ کانگ کی کاروباری برادری اور تاجروں نے بھی ہڑتال کی دھمکی دی ہے جب کہ طلبہ، اساتذہ، بس ڈرائیورز، سماجی کارکنوں اور دیگر پیشہ وارانہ تنظیموں نے بھی بِل کے خلاف احتجاج جاری رکھنے اور ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مجوزہ بِل کے خلاف ہانگ کانگ میں اتوار کو 10 لاکھ سے زائد افراد نے جلوس نکالا تھا جس کے دوران جلوس کے بعض شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ 1997ء میں ہانگ کانگ کے چین سے الحاق کے بعد اب تک ہونے والا یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔

مجوزہ بِل کیا ہے؟

مجوزہ قانون کے تحت چین کی حکومت ہانگ کانگ سے سنگین جرائم میں ملوث مطلوب ملزمان کو چین کے حوالے کرنے کی درخواست کرسکے گی اور ان کے خلاف چین میں ہی مقدمات چلائے جاسکیں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون ہانگ کانگ کو حاصل خصوصی آئینی استحقاق کی خلاف ورزی ہے اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو چین کے حوالے کرنے سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔

ناقدین کا الزام ہے کہ چین میں عدالتیں حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ اثر ہیں اور وہاں ملزمان پر تشدد، ان سے جبری اعترافِ جرم کرانے اور جیلوں میں ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھے جانے کی شکایات عام ہیں۔

لیکن حکومت نے کہا ہے کہ ملزمان کی چین حوالگی کا فیصلہ ہانگ کانگ کی عدالتیں کریں گی جو چین کے اثر سے آزاد ہیں۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت صرف قتل اور زنا بالجبر جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو ہی چین کے حوالے کیا جاسکے گا اور سیاسی قیدی اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ہانگ کانگ کی 70 رکنی اسمبلی میں مجوزہ بِل بدھ کو دوسری بار بحث کے لیے پیش کیا جانا تھا۔ اسمبلی میں چین کے حامی ارکان کی اکثریت ہے اور احتجاج کے باوجود ہانگ کانگ حکومت کی سربراہ کیری لیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون کو ضرور منظور کرائیں گی۔

ہانگ کانگ کی خصوصی آئینی حیثیت

ہانگ کانگ 1841ء میں برطانیہ کی کالونی بنا تھا جس نے چین کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت 1997ء میں علاقے کا کنٹرول دوبارہ چین کو سونپ دیا تھا۔

چین اور برطانیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت ہانگ کانگ کی خود مختاری برقرار رکھی گئی ہے جس کے تحت علاقے کا اپنا آئین، منتخب اسمبلی، آزاد عدلیہ ، فری مارکیٹ پر مبنی معاشی نظام اور اپنی کرنسی ہے۔

چین کے برعکس ہانگ کانگ کے باشندوں کو آزادیٔ اظہارِ رائے اور احتجاج اور اجتماع کی آزادی سمیت بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔ چین کے شہریوں کو ہانگ کانگ آنے جانے کے لیے خصوصی اجازت ناموں اور ویزہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

تاہم ہانگ کانگ کی حکومت برطانیہ سے آزادی کے بعد سے چین کے زیرِ اثر ہے جس کے خلاف ہانگ کانگ میں ماضی میں بھی احتجاج ہوتا رہا ہے۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں