قافلہ موج یقیں

Poet: وشمہ خان وشمہ
By: washma khan, Kuala Lampur

قافلہ موجِ یقیں کا جب رواں ہو جائے گا
پھر سلامت کشتیوں کا بادباں ہو جائے گا

پاؤں کا ذرہ زمیں کا آسماں ہو جائے گا
"میرا ہر فقرہ مُکمل داستاں ہو جائے گا"

درد کا سورج چھپے گا بادلوں کی اوڑھ میں
زندگی کا راستہ اب مہرباں ہو جائے گا

میرے ہاتھوں کی لکیروں کو کوئی سمجھا نہیں
کیسے کہدوں وہ بھی میرا رازداں ہو جائے گا

دیکھتے ہی دیکھتے لو پھر دسمبر آ گیا
پھر نیا اک زندگی کا امتحاں ہو جائے گا

آج کھولا ہے یہاں پر جگنوؤں نے راستہ
خوب روشن تیرگی کا یہ سماں ہو جائے گا

کیا حقیقت ہے یہاں پر مفلس و نادار کی
وشمہ تیرا بھی عقیدہ اب عیاں ہو جائے گا

Rate it:
28 Nov, 2019

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: washma khan washma
I am honest loyal.. View More
Visit 4533 Other Poetries by washma khan washma »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City