یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
Poet: Allama Iqbal
By: sharjeel, khi

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنر مند

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ
دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

تو برگ گیا ہے نہ وہی اہل خرد را
او کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند

فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مدت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکر
کر دے اسے اب چاند کے غاروں میں نظر بند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے، نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے اک بندۂ حق بین و حق اندیش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش
میں بندۂ مومن ہوں نہیں دانۂ اسپند

پرسوز نظر باز و نکوبین و کم آرزو
آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند

ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرم
کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکرخند

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند

Rate it: Views: 628 Post Comments
 PREV More Poetry NEXT 
 More Allama Iqbal Poetry View all
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 07 Nov, 2016
About the Author: owais mirza

Visit Other Poetries by owais mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.