جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا

Poet: Jaun Elia
By: ibrahim, khi

جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا
وہ جو ابھی یہاں تھا وہ کون تھا کہاں تھا

تا لمحۂ گزشتہ یہ جسم اور سائے
زندہ تھے رائیگاں میں جو کچھ تھا رائیگاں تھا

اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں
وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا

کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو
سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا

یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر
تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا

اس شہر کی حفاظت کرنی تھی ہم کو جس میں
آندھی کی تھیں فصیلیں اور گرد کا مکاں تھا

تھی اک عجب فضا سی امکان خال و خد کی
تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا

عمریں گزر گئی تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے
اور لمحہ اک گماں کا صدیوں میں بے اماں تھا

جب ڈوبتا چلا میں تاریکیوں کی تہ میں
تہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا

 

Rate it:
17 Feb, 2017

More Jaun Elia Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: owais mirza
Visit Other Poetries by owais mirza »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City