جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گا
Poet: Ahmed Faraz
By: talha, khi

جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گا
اب آگہی کا زہر زباں پر نہ آئے گا

اب کے بچھڑ کے اس کو ندامت تھی اس قدر
جی چاہتا بھی ہو تو پلٹ کر نہ آئے گا

یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے
غافل کو یہ گماں ہے کہ پتھر نہ آئے گا

پھر بو رہا ہوں آج انہیں ساحلوں پہ پھول
پھر جیسے موج میں یہ سمندر نہ آئے گا

میں جاں بلب ہوں ترک تعلق کے زہر سے
وہ مطمئن کہ حرف تو اس پر نہ آئے گا

 

Rate it: Views: 107 Post Comments
 PREV More Poetry NEXT 
 More Ahmed Faraz Poetry View all
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 10 Mar, 2017
About the Author: owais mirza

Visit Other Poetries by owais mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.