"پگلی"
Poet: مونا شہزاد
By: Mona Shehzad., Calgary.

بنا کر بهیس اک بنجارن کا
پهرے ہے مونا قریہ قریہ
وه شکستہ سی آرزوویں
وه اداس زمین دل
وه سہمی ہوئی نظر 
لگاتی پهرے یہ صد
لوگو! آو خواب سجائیں
اس سرزمین کو پهر سے سبز بنائیں
رستہ چلتے لوگ حیرت سے مجھے دیکهتے ہیں
کچھ رک کر پوچھتے ہیں:
سن دیوانی ! کیا ڈھونڈتی ہے تو ان لوگوں کے ہجوم بے کراں میں؟
میں دشت حیرت میں بت بنی سوچتی ہوں
کیا ان کو واقعی معلوم نہیں کہ کس کس کا کیا کیا کهو گیا ہے؟ میں کیا بتاؤں؟
میں کیا کیا ڈھونڈتی ہوں؟
کچھ سچے سے، محبت بهرے الفاظ
کچھ پاکیزہ سے جذبات
آنکھوں کی حیا 
تھوڑے دلاسے اور بہت سا مان
درگذر کرنے کی جرات
وه بے لوث سے تعلق
وه معصومیت
جو سب کهو گیا ہے کہیں
کچھ خواب
کچھ سوال
میں قریہ قریہ گهوم کر آواز لگاتی ہوں
میرے خواب لوٹا دو
زمانے میرے خواب لوٹا دو
ننگے سر
زخمی پاوں
شکستہ دل
لوگ مڑ کر دیکھتے ہیں
اور
افسوس سے کہتے ہیں
بےچاری پگلی!
میں ہنس کر اشک صاف کرتی ہوں
چپکے سے کہتی ہوں
ہاں! میں " پگلی"




 

Rate it: Views: 3 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 20 Apr, 2018
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Visit 107 Other Poetries by Mona Shehzad »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.