تین برس اور سولا سال
Poet: محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم یو کے
By: Mohammed Masood, Nottingham

 اے میرے چاہنے والے
مجھ سے بات تو کر دیکھ کہاں سے آیا ہوں
دیکھ سناٹا ہے چاروں جانب اور ہوا کی سرگوشی میں
اور ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ جملے ہیں میرے پاس
رات گئے تک ہونے والی بارش کے قطروں کی
صورت ٹپک رہے ہیں
تین برس اور سولہ دن پہلے کی گزری ہوئی شام
کوئی یہیں کہیں پہ رکی ہوئی ہے
اور ایک گہرے سایوں والے پیڑ پہ
اب بھی ہم دونوں کے نام کھدے ہیں

اے میرے چاہنے والے
تیرے سامنے اس دن ہم نے کتنی باتیں کی تھیں
تجھ کو بھی وہ یاد تو ہوں گی
سب نہ سہی پر تھوڑی تھوڑی
یہ جو ہوا کی سرگوشی ہے اس کے ٹوٹے جملوں جیسی ہے
ابھی ابھی اس تھمنے والی بارش کے ان قطروں جیسی ہے

تین برس اور سولہ دن کا ایک ایک لمحہ لایا ہوں
جنگل مجھ سے بات تو کر
دیکھ کہاں سے آیا ہوں میں
میرے چاہنے والے مجھ سے بات تو کر
تین سال اور سولا دن کی گزری شام لایا ہوں
تین برس اور سولا دن کے گزرے لمحے لایا ہوں

Rate it: Views: 6 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 29 Jun, 2018
About the Author: Mohammed Masood

محمد مسعود اپنی دکھ سوکھ کی کہانی سنا رہا ہے

.. View More

Visit 354 Other Poetries by Mohammed Masood »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.