وہ پتھر کسی آنکھ کا تارہ نہیں ھونے ولا
Poet: Faizan khuram(faizi)
By: faizan khurram, faisalabad

وہ پتھر کسی آنکھ کا تارہ نہیں ھونے ولا
تم بھی یہ جان لو وہ تمھارا نہیں ھونے والا

وہ اپنی مثال آپ ھے سو اسکی مثال میں
چاند۔۔ پھول۔۔ کچھ بھی استعا رہ نہیں ھونے والا

پڑھائی کیلئے شہر جانے والا سیدھا سادھا دیہاتی
اب کبھی بوڑھی ماں کا سہا را نہیں ھونے والا

ایک در، وہ دربدر، ھوا گھر سے بے گھر
تم تو کہتے تھے وہ آوارہ نہیں ھونے والا

تجارت کیجئے محبت کی ، کہ اجڑ کر بھی
محبت میں کسی بھی صورت خسارا نہیں ھونے والا

بٹ گیا ھوں میں ہجرتوں میں یہاں وہاں
میں تیرا ھو بھی جاؤں تو سارا نہیں ھونے والا

گرہ لگانے سے کچھ نھیں ھونا ،میاں صاف کہو
کہ 'انکا آپس میں گزارہ نھیں ھونے والا'

چودھویں کی رات ،آسمان بے نور، پہلو میں حضور
کسی قلندر کو دوبارہ ایسا نظارہ نہیں ھونے والا

یہ بستی ھے بد روحوں کی بستی
یہاں روح پرور نظارہ نہیں ھونے والا

انہونیوں کا معترف ھوں پھر بھی یہ طے ھے
اب فیضیؔ کم سے کم تمھارا نہیں ھونے والا

Rate it: Views: 1 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 29 Jun, 2018
About the Author: faizan khurram


Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.