دیہاڑی
Poet: ابوذر سندھی
By: abuzar sindhi, hayderabad

800 روپیے سے چلتا ہے گھر میرا
دو دن سے نہیں کمایا کیا کھاؤں گا میں

مولوی صاحب کہتے ہیں کہ احتجاج ہے
میرے بچے بھی سوئے ہے کل سے بھوک پیاس میں

ممبر رسالت سے آ رہی ہے صدائیں
کوئی بچ نہ پائے جلادو سب کچھ آس پاس میں

رحمت لِلعالمین کی عزت کی حفاظت کی واسطے
ناس جلا جل رے شریف الناس کی آگ میں

کیا یقین نہیں ہے تم کو قیامت پر اے صاحب ممبر
گستاخی نہیں ہوئی تھی کیا طائف میں

سنو اگر تمھارا ہے حکومت سے مسئلہ
ھم بھی ساتھ تمہارے حزب اختلاف میں

یک صف بھی مکمل نہیں ہے مساجد میں
نمازی بھی نہیں ہے کوئی نماز میں

ملک ہے مسلمانوں کا کس واسطے مفلوج
کیا یہ سب لکھا ہے المٓ سے لے کر وَالنّاس میں

Rate it: Views: 0 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 06 Nov, 2018
About the Author: abuzar sindhi

Visit Other Poetries by abuzar sindhi »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.