منزل جو میں نے پائی تو ششدر بھی میں ہی تھا
Poet: Qateel Shifai
By: ghazal, khi

منزل جو میں نے پائی تو ششدر بھی میں ہی تھا
وہ اس لیے کہ راہ کا پتھر بھی میں ہی تھا

شک ہو چلا تھا مجھ کو خود اپنی ہی ذات پر
جھانکا تو اپنے خول کے اندر بھی میں ہی تھا

ہوں گے مرے وجود کے سائے الگ الگ
ورنہ برون در بھی پس در بھی میں ہی تھا

پوچھ اس سے جو روانہ ہوئے کاٹ کر مجھے
راہ وفا میں شاخ صنوبر بھی میں ہی تھا

آسودہ جس قدر وہ ہوا مجھ کو اوڑھ کر
کل رات اس کے جسم کی چادر بھی میں ہی تھا

مجھ کو ڈرا رہی تھی زمانے کی ہم سری
دیکھا تو اپنے قد کے برابر بھی میں ہی تھا

آئینہ دیکھنے پہ جو نادم ہوا قتیلؔ
ملک ضمیر کا وہ سکندر بھی میں ہی تھا

 

Rate it: Views: 236 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 13 Mar, 2017
About the Author: Owais Mirza

Visit Other Poetries by Owais Mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Very good ..
By: Muzammal khan, faisalabad on Jan, 27 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.