میری تیز پا بے تابیاں، کبھی یہاں، کبھی وہاں
Poet: Tariq Hashmi
By: Tariq Hashmi, Montreal

میری تیز پا بے تابیاں، کبھی یہاں، کبھی وہاں
لے نہ ڈوبے کہیں مجھے، یہ جُستجُوئے یَزداں

آئیں ھماری چا ہتیں اتنی قریب کہ
نہ وہ رہا درمیاں، نہ میں رہا درمیاں

اہلِ وطن مَدھوش ہیں، خوابِ غفلت میں ابھی
ھے بے اثر ابھی یہاں، تیری فَجَر کی اذاں

ابھی بہار آنے میں، اِک مدّت پڑی ھے ساقی
بڑا بے وقت گاتا ھے، یہ بُلبُلِ ناداں

ابھی نظروں سے اوجھل ھے، وہ آئینِ جہانداری
انسان کو جو دیتا ھے، جَہاں میں عظمتِ انساں

چشمِ شاھیں جا اٹکی ھے، یورپ کے نگینوں میں
لپٹا ھے غلافوں میں، ابھی گوہرِ قرآں

نہیں پائی معراجِ عشق، ابھی تیرے بندوں نے
نہیں ھے اُن کے دامن میں، یدِ بیضاءِ فُرقاں

تیرے انکاریوں نے تو، بسائی ھیں، بستیاں بے مِثل
تیرا مومن ھے آوارہ، کُو بہ کُو، جہاں دَر جہاں

تیرے بندے پریشاں ھیں، تَشَکُّک کی فضاوں میں
کبھی مسجد، کبھی مندر، کبھی معبد، کبھی حیراں

صداقت، جس نے بخشی تھی خلافت، صِدّیقِ اکبر کو
نہیں ھے اُس صداقت کا، مسلماں میں نشاں باقی

’’حَسْبُنا کِتابُ اللہ‘‘ کا نعرہ جو لگاتے تھے
نہیں ھے اب زمانے میں، وہ صاحبِ ایماں باقی

چُراتے تھے حیاء ماہ وَش، جن کے گلابی گالوں کے
نہیں ھیں اب زمانے میں، ایسے ابنِ عفّاں باقی

فَقر وہ جِس نے پھونکی تھی، قوّت بازوئے حیدر میں
نہیں ھے اب جہاں میں، وہ فَقرِ لا زماں باقی

چلے گئے جو رکھتے تھے، اپنی آستینوں میں
بُرہانِ یَدِّ بیضاء، عَصَائےِ قوّتِ ایماں

مسلماں کو ضرورت ھے، پھر یٰس و طٰہٰ کی
تجلّی وہ جو چَمکی تھی، سَرِ چَوٹئِ فاراں

نہیں ملتا اوجِ ثُریّا، پَستی کے ظُلمت خانوں میں
یہ گَوہر تو ملتا ھے، جَہاں کے آسمانوں میں

ارے ناداں! پیدا کر زماں اپنا زمانوں میں
کمی رکھی خدا نے کیا؟ اپنے کارخانوں میں

Rate it: Views: 6 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 21 Aug, 2017
About the Author: Tariq Hashmi

Visit 14 Other Poetries by Tariq Hashmi »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Not good poetry
By: Chishti, QadirAbad on Aug, 24 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.